فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 245 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 245

۲۴۵ ہمارے نزدیک میشت کے رشتہ دار یا جماعت کے ذمہ دار عہدہ دار حسب صوابدید و موقع مناسب فیصلہ کر سکتے ہیں جس طرح بیماری کی صورت میں اگر لیڈی ڈاکٹر نہ ملے تو عورت مرد ڈاکٹر سے بھی علاج اور قابل ستر حصہ میں بیماری کی تشخیص کر سکتی ہے۔اسی طرح یہاں بھی یہ طرز عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔بہر حال یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور پردہ اور غیر محرم کو چھونے کی ممانعت سے متعلق مام ہدایات پر اس اجتہاد کی بنیاد ہے۔فقہاء نے اس سلسلہ میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے :- انْفَقُوا عَلَى أَنَّ الرِّجَالَ يَغْسِلُونَ الرِّجَالَ - وَالنِّسَاءَ يَفْسِلُنَ النِّسَاء وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَرأَة تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ أَوِ الرَّجُلُ يَمُوتُ مَعَ النِّسَاء مَا لَمْ يَكُونَا زَوْجَيْنِ عَلَى ثَلَاثَةِ اقْوَالٍ فَقَالَ قَوْم يَغْسِلُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ مِنْ فَوْقِ الشَّيَابِ وَقَالَ قَوْمُ يَتَيَمَّمُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ وَبِهِ قَالَ الشَّافِعِى وَالوَحَنِيفَةَ وَجَمْهُورُ الْعُلَمَاءِ وَقَالَ قَوْمُ لا يَغْسِلُ كُل وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ وَلَا يَتَيَمَّمُهُ وَقَالَ كَيْتُ مِن سَعْدٍ بَلْ يُدُ فَنُ مِنْ غَيْرِ غُسْلٍ هِ غسل میت طاعون زده سوال : - طاعون زدہ کے غسل کے واسطے کیا حکم ہے ؟ ہوا ہے :۔فرمایا " مؤمن طاعون سے مرتا ہے تو وہ شہید ہے۔شہید کے واسطے غسل کی ضرورت نہیں تھ طاعون زدہ کو کفن سوال :- طاعون زدہ کو کفن پہنایا جا وے یا نہیں ؟ جوا ہے :۔فرمایا " شہید کے واسطے کفن کی ضرورت نہیں۔وہ انہیں کپڑوں میں دفن کیا جائے۔ہاں اس پر ایک چادر ڈال دی جائے تو ہرج نہیں ہے " سے سوال :۔خواتین کے کفن میں کتنے کپڑے ہوتے ہیں سُنا ہے آجکل ایک پاجامہ کا اضافہ ہوا ہے؟ ل بداية المجتهد الباب الثاني في غسل الميت الفصل الثالث : ه: - بدرم را پریل عنه :