فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 244 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 244

صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔۔۔۔گو اس میں بھی بعض حالات میں فائدہ ہو سکتا ہے مگر اس سے بعض نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو خطرناک ہیں۔ان کا فائدہ کم ہے اور نقصان زیادہ ہے۔یہ روحانیت پر ایسا اثر ڈال دیتی ہے کہ خُدا تعالیٰ سے دور کر دیتی ہے یہ چیزیں انسان کو دُعا سے غافل کر دینے والی ہیں اور خُدا کی طرف بار بار رجوع کرنا جو ایمان کی جزو ہے اس سے انسان کو دور کر دیتی ہے " اے سوال :۔وفات کے وقت مسلمان کے لئے کونسی دعا پڑھی جاتی ہے ؟ جواب : - جب ایک مسلمان پر حالت نزع طاری ہو تو پاس والے کلمات خیر کہیں۔مثلاً (الف) لا إِلَهَ إِلَّا اللہ پڑھیں۔لہ (ب) خوش الحانی سے حاضرین میں سے کوئی سورہ یاسین کی تلاوت کری سے۔سے رج ، نیز یہ ذکر کرنے کا بھی حکم ہے :- إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي۔مجھے وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا - له سوال: - اگر کوئی بصورت ایسی حالت میں مر جائے کہ وہاں کوئی دوسری صورت نہیں یا مرد مر جائے جبکہ کوئی دوسرا مرد وہاں نہیں تو پھر غسل اور نماز جنازہ وغیرہ کسی طرح ہوگا۔جواب : - میدان جنگ میں اگر کوئی عورت ماری جائے تو بلا غسل اس کی تجہیز و تکفین کی جائے۔ہاں نمازہ جنازہ میں اگر کوئی روک نہ ہو تو پڑھی جائے۔بحالت ضرورت غیر محرم مرد عورت کا جنازہ اُٹھا سکتے ہیں۔اور اس کی تدفین بھی کر سکتے ہیں۔اگر کوئی عورت میدان جنگ میں قتل نہ ہو بلکہ کسی مرض کے وفات ہو تو غسل کے لئے کپڑوں سمیت اُوپر پانی ڈالا جائے اور پھر کفن میں لپیٹ کر تدفین کی جائے۔بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ اس صورت میں بلاغسل تدفین ہو یا میت کو تسیم کر دیا جائے۔یعنی اس کی باہوں اور منہ پر ہاتھ پھیر جائے اور اس وقت تیم کرانے والا اپنے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ ہے۔نے الفضل ۲۶ فروری ۴۹۲۳ : ۵۲ ترندی ملا ، ابوداؤد باب فی التلقین مت : ٣ : ابو داؤد کتاب الجنائز باب القراءة عند البيت م: له اسلم باب ما يقال عند المصيبة ناشی - مراسیل ابو داود باب غسل المیت او۔امصری :