فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 243 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 243

۲۴۳ متفرقات مرض کی صورت میں صحیح علاج کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔نیز شافی مطلق کے حضور صحت کے لئے درد و الحاج کے ساتھ دُعا کی جائے۔صدقہ دیا جائے۔دعا کی ایک صورت دم بھی ہے اور اس رنگ میں کسی بزرگ سے بطور تبرک دم کہ انا جائز ہے لیکن نہ تو اس طریق کو عام کیا جائے اور نہ ہی اسے بطور پیشہ اختیار کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عموما یہی طریق تھا اور آپ کے صحابہ کا بھی یہی عمل رہا کہ دعا کے اس طریق کو بہت کم اختیار کیا گیا۔کیونکہ اس میں بدعت کے راہ پانے اور رسم چل پڑنے کا بھی ڈر ہے۔عام طور پر سورہ فاتحہ اور معوذتین پڑھ کر دم کرنے کے بارہ میں روایات آئی ہیں۔سوال :- مریض کو قرآن مجید کی کونسی آیات پڑھ کر دم کیا جائے ؟ جوا ہے :۔بخاری کی یہ روایت اس بارہ میں ہماری رہنمائی کرتی ہے :- عنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا آوى إِلَى فِرَاشِهِ نَفَثَ فِي كَفَّيْهِ بِقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَ بِالْمُعَوَّذَ تَيْنِ جَمِيعًا ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ نَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ يَأْمُرُني ان افعل ذلِكَ بِه له یعنی۔حضرت عائشہ یہ فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام جب سونے کے لئے بستر پر لیٹتے تو اپنے دست مبارک پر سورہ اخلاص سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھ کر پھونک مارتے اور پھر ہاتھوں کو چہرہ اور تمام جسم پر جہاں تک ہاتھ پہنچتا پھیر تے اور جب آپ بیمار ہوتے تو مجھے ایسا کر نے کے لئے فرماتے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا : - ردم مریض پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ عقلاً اس کا فائدہ اور اس کی حکمت معلوم ہوتی ہے۔باقی چیزوں پر دم۔۔۔۔۔رسول اللہ ۵۵ بخاری کتاب الطب باب النفث في الرقية ص: ه: - بخارى كتاب الطب باب النفث في المرقية م :