فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 242
۲۳۲ اس کے بعد السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْشَاء الله بِكُمْ لاحِقُونَ نَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَة - کہتے ہوئے بادلِ حزیں وصبر و حوصلہ واپس آئیں لیے میت کے عزیزوں کے ساتھ تعزیت کی جائے اور صبر و حوصلہ کی تلقین کی جائے۔قریبی یا پروسی پسماندگان کے گھر ایک وقت کا کھانا بھی بھجوائیں۔رسوم پرستی اور تو ہمات سے اجتناب کیا جائے۔افسوس اور تعزیت کی حالت تین دن تک قائم رکھی جائے۔اس کے بعد زندگی معمول پر آجانی چاہیئے۔البتہ جس عورت کا خاوند مر جائے وہ چار ماہ دس دن تک سوگ منائے۔یعنی بلا اشد ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے۔بناؤ سنگار نہ کرے۔بھڑکیلے کپڑے نہ پہنے۔خوشبو کا استعمال نہ کرے۔خوشی کی تقریبات میں شامل نہ ہو اور صبر و شکر کے ساتھ ذکر الہی میں یہ دن گزار ہے : ه: ابن ماجد كتاب الجنائز باب فيما يقال اذا دخل المقابر ملك ؟