فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 241
۲۴۱ تم - نابالغہ لڑکی کے جنازہ کی دعاء :- اللَّهُمَّ اجْعَلَهَا لَنَا سَلَفَا وَنَرَطَا وَ ذُخْرًا وَاجْرًا وَشَافِعَةٌ وَمُشَفَعَةٌ۔یعنی۔اسے اللہ اس بچی کو ہمارے فائدہ کے لئے پہلے جانے والی اور ہمار سے آرام کا ذریعہ بنا اور سامان خیر بنا اور موجب ثواب یہ ہماری سفارشی بنے اور اس کی سفارش قبول فرما۔نماز جنازہ کے بعد جتنی جلدی ہوسکے میت کو دفنانے کے لئے قبرستان لے جایا جائے۔سب ساتھ جانے والوں کو باری بازی کندھا دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر میت بھاری ہو یا اُسے دور لے جانا ہو تو گاڑی یا ٹرک وغیرہ پر رکھ کر لے جایا جا سکتا ہے۔جنازہ لے جاتے وقت ساتھ ساتھ زیر لب ذکر الہی اور دعائے مغفرت بھی کرتے جانا چاہیئے۔قبر لحد والا یا شق دار دونوں طرح جائز ہے۔البتہ میت کی حفاظت کے پیش نظر کشادہ اور گہری ہونی چاہیے۔بصورت مجبوری ایک قبر میں کئی منتیں بھی دفن کی جاسکتی ہیں۔اگر میت کو امانتاً دفن کرنا ہو یا زمین سخت سیلا بہ ہو تو میت کی حفاظت کے مد نظر لکڑی یا لوہے کے صندوق میں دفن کر سکتے ہیں یہ چنانچہ صاحب رو المختار رکھتے ہیں :- ر ولا بأس باتخاذ تابوت) ولو بحجر او حديد وله عند الحاجة) كرخاوة الأرض میت کو احتیاط کے ساتھ قبرمیں اتارتے وقت بِسْمِ اللَّهِ عَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے الفاظ کہے جائیں۔اور لپٹی ہوئی چادر کا بند کھول کہ میت کا منہ ذرا قبلہ کی طرف جھکا دیا جائے۔کچھ اینٹیں یا چوڑے پتھر رکھ کر لحد بند کر دی جائے اور اوپر مٹی ڈال دی جائے۔بہر حاضر کو مٹی ڈالنے میں کچھ نہ کچھ حصہ لینا چاہیئے اور نہیں تو دونوں ہاتھوں سے تین سٹھی مٹی ڈالے اور ساتھ یہ آیہ کریمہ پڑھے :- مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيْهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى - له قبر کو مسطح اور تھوڑی سی کو ہان دار بنانا مسنون ہے۔قرتیار ہونے پر مختصری دعائے مغفرت کی جائے : ردّ المختارص جلد اول حاشیه سه: ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء في ادخال الميت القبر ما : ه: - سوره طه : ۵۷ ، بیہقی مواد نیل الاوطار باب من ابن يدخل الميت قبره۔۔۔الخ حيث :