فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 230
۲۳۰ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھے بلند اور عالیشان مساجد بنا نے کا حکم نہیں دیا گیا۔حضرت ابن عباس نے اس کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ یہود و نصاری کی طرح بلند و بالا عالیشان عبادتگا ہیں بنانا ان کی تزئین کرنا اوران میں سیم سیم کے نقش و نگار بنانا اور سونے سے انہیں ملی کرنا بعثت رسول کے مقاصد میں شامل نہیں۔رسول تو سادہ زندگی کی تلقین کے لئے آتے ہیں۔۲، عَنْ أَنيَّ أَنَّ النَّبِى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاحَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِه حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ لوگ عالی شان مساجد بنانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے اور انہیں باہمی تفاخر کا ذریعہ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔(۳) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ انَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ بَعْدَ دَخُولِهِ الكَعْبَةَ فَقَالَ إِنِّي كُنتُ رَأَيْتُ تَرْلَى الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِييْتُ اَنْ امْرَكَ اَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِرُهُمَا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي قِبْلَةِ الْبَيْتِ شَيْءٍ يُلْقِي الْمُصَلَى - له یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو کلید بردار کعبہ حضرت عثمان بن طلحرف کو بلایا اور فرمایا۔جب میں خانہ کعبہ کے اندر آنے لگا تھا تو میں نے مینڈھے کے سینگ دیوانہ کعبہ پر نصب دیکھے تھے۔تم انہیں ڈھانک دو۔کیونکہ قبلہ کی جہت کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیئے جو نمازی کی توجہ کو ہٹا دے۔سوال :- مسجدوں کے اندر قرآنی آیات کے قطعات آویزاں کرنے میں کوئی حرج ہے؟ جو ا ہے :۔اصل ہدایت یہ ہے کہ حتی الوسع نمازی کے سامنے دیوار یا کسی اور چیز پر ایسے نقش و نگار۔قطعات و آیات وغیرہ نہیں ہونی چاہئیں جو اس کی توجہ کو ہٹا دیں اور اُس کی یکسوئی میں حارج ہوں البتہ کچھ بلندی پر جو نظر کے سامنے کے خط مستقیم سے اوپر ہو تبلیغی اغراض کے ماتحت آیات ، احادیث یا اشعار لکھنے یا قطعات لٹکانے میں بظاہر کچھ ہرج نہیں۔ه: ابن ماجد كتاب الصلوۃ باب تشييد المساجد من و ابوداود کتاب الصلوة باب في بناء المساجد صدا ت : - ابو داؤد كتاب المناسك باب الصلوة في الكعبة ص ، مسند احمد ص :