فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 229
۲۲۹ تھا۔آپ نے وہ جگہ اس کے مالکوں سے خرید کی اور اس میں جو کھجوریں وغیرہ تھیں انہیں مجید کی چھت وغیرہ میں استعمال فرمایا۔چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں :- من اني أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصَلِّي حَيْتُ أَدْرَكَهُ الصَّلوةُ وَيُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَانَّهُ أَمَرَ بِجَنَاءِ الْمَسْجِدِ فَاَرْسَلَ إِلَى مَلَاء بَنِي التَّجَارِ فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَارِ تَا ضُنِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا قَالُوا لاَ وَاللهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّوَ جَل قَالَ انَ وَكَانَ فِيْهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ تُبُورَ الْمُشْرِكِينَ لِه اس روایت سے ظاہر ہے کہ قبرستان کے درختوں کو مسجد میں استعمال کرنا منع نہیں۔مسجد کی زینت دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جاویں کیے سوال :۔مسجد کے محراب پر نقش ونگار یا شعر وغیرہ لکھا جا سکتا ہے ؟ جواب : مساجد خصوصا قبلہ والی دیوار اور محراب میں نقش و نگار، تحریر، استعاره و آیات وغیرہ کو پسند نہیں کیا گیا۔اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس طرح نمازی کی توجہ بنتی ہے اور وہ یکسوئی سے نماز نہیں پڑھ سکتا۔(1) است سلسلہ میں چند احادیث جن سے استدلال کیا گیا ہے درج ذیل ہیں : عَنِ ابْنِ عَبَّاسَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُمِرْتُ اللهِ بتَشْبِيْدِ الْمَسَاجِدِ - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَتُزَ خَرِ فَنَّهَا كَمَا نَ خَرَفَتِ اليَهُودُ وَالنَّصَارَى ه بخاری کتاب الصلوة - باب هل ينبش قبور مشركي الجاهلية الخصلت : ه: - فتاد فی احمدیه ص سه : - البو داؤد كتاب الصلاة باب فى بناء المسجد ص :