فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 228 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 228

۲۲۸ سوال: کیا ز کوۃ کی رقم سے مسجد بنوائی جا سکتی ہے ؟ وا جوا ہے :۔بہتر تو یہی ہے کہ زکوۃ کی رقم مسجد کی تعمیر و مرمت پر خرچ نہ کی جائے۔تاہم زکواۃ افراد کے علاوہ ایسے مفید اداروں کو بھی دی جاسکتی ہے جو کہ پبلک کے فائدہ کے لئے ہوں اور عام پبلک ان سے فائدہ اٹھا سکتی ہو۔یا خاص گردہ پبلک کا جو کہ انفرادی طور پر زکواۃ کا مستحق ہے فائدہ اُٹھا سکتا ہو جیسے یتیم خانے۔غریب خانے مساجد - ہسپتال۔کنویں۔تالاب وغیرہ۔چنانچہ بعض فقہاء نے فی سبیل اللہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ افراد کے علاوہ اداروں پر بھی یہ رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔لے سوال : کیا قربانی کی کھالوں کی رقم مسجد کی ضروریات پر خرچ ہو سکتی ہے ؟ بہتر ہے کہ قربانی کی کھالوں کی قیمت غرباء کو دی جائے یا جیسا کہ انتظام ہے مرکز میں بھجوا جواب : دی جائے۔اپنے طور پر بلا اجازت مرکز مسجد کی ضروریات پر یہ رقم خرچ کرنا مناسب نہیں۔اور یوں بھی یہ وقار مسجد کے خلاف ہے کہ ایسے صدقات کا مال جس سے مستحق غرباء میں مسجد کی تعمیر میں خرچ کیا جائے۔سوال : کیا فاحشہ عورت کی کمائی سے بنائی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے ؟ جوا ہے :- جو مسجد بن گئی ہے اور معاشرہ میں بطور مسجد اس کا مقام مان لیا گیا ہے اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔نماز پڑھنے والے کے لئے اس بات کی چھان بین کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ مسجد کر نے بنائی ہے۔کیسے پیسوں سے بنی ہے۔رہا اپنا خیال تو جس کا جی نہیں چاہتا وہ نہ پڑھے۔شریعت تو صرف جواز سے بحث کرتی ہے۔- 1 جو درخت کسی قبرستان میں لگے ہوئے ہیں ان کو فروخت کر کے کیا اس کی رقم کسی مسجد میں لگانا درست ہے ؟ جواب :- عام قبرستان کی زمین اور اُس میں اُگے ہوئے درخت وغیرہ وقف کے حکم میں ہیں اگر گاؤں والوں کی اکثریت اتفاق رائے سے ایسی آمدن کو مسجد کی اصلاح وغیرہ میں لگائے تو اس میں شرعا کوئی امر مانع نہیں اور ایسا کرنا جائز ہے۔گاؤں والوں کا اتفاق اس لئے ضروری ہے تاکہ فتنہ پیدا نہ ہو۔جو شخص صاحب اختیار اور مختار کا ر ہے وہ ایسے درختوں کو بیچ کر اُسے مسجد کی مرمت وغیرہ میں صرف کر سکتا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اپنی مسجد بنوائی اور اب جو مسجد نبوی کہلاتی ہے وہاں ایک قبیلہ کا پرانا قبرستان :- رساله تشريح الدكواة هنا :