فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 227
ضرورت کے مطابق مسجد بنائی جائے۔نیز مسجد کا شاندار ہونا یا ضرورت سے بڑی عمارت کا ہونا۔یا پختہ ہونا ضروری نہیں۔بہر حال اپنے پر بھروسہ کرنے کی عادت ڈالنی چاہیئے تاہم ضرورت اور مجبوری کے حالات کے لحاظ سے مندرجہ ذیل حوالے جوانہ کی سند بن سکتے ہیں :۔I " 19 محترم منشی فرزند علی خانصاحب سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔آپ نے ایک مقامی رئیس منشی کرم الہی صاحب کو جن کی ایک مسجد ویران پڑی رہتی تھی تحریک کی کہ وہ اپنی مسجد جماعت احمدیہ کو عنایت کر دیں۔چنانچہ حسب ذیل چھٹی ان کو بھجوائی گئی۔آپ کے والد صاحب مرحوم کی مسجد کی غیر آباد حالت دیکھ کر مجھے آپ کی خدمت میں اس درخواست کے پیش کرنے کی جرأت ہوئی ہے کہ آپ فیروزپور کی جماعت احمدیہ کو اس مسجد کے آباد کرنے کی اجازت فرما دیں : اس کا جواب اس رئیس کی طرف سے یہ ملا کہ چونکہ یہ مسجد میرے بزرگوار کی تعمیر کروائی ہوئی ہے اور میں تا اس دم اس کا متولی ہوں۔میں بڑی خوشی سے آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ آپ کے ہم خیال لوگ اس میں نمانہ پڑھیں اور اس کو آباد کریں۔اور شکست کی مرمت کروائیں۔میری طرف سے اور دیگر مسلمانوں کی طرف سے آپ کو کہ یہخہ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔بیکن بہت خوش ہوں کہ یہ خانہ خُدا آباد ہو۔یہ چند سطور بطور اجازت نامہ لکھ دیتا ہوں تاکہ سند رہے۔والسلام جب اس کا رروائی کی اطلاع مرکز میں پہنچی تو الحکم جلد نمبر ۲۴ میں یہ نوٹ شائع ہوا دو منشی فرزند علی صاحب ایک قابل اور ہونہار نوجوان ہیں انجمن حمایت اسلام کے لئے آپ نے بہت بڑا کام کیا ہے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ میں ابھی تھوڑے عرصہ سے داخل ہوئے ہیں اور آپ کی سعی اور ہمت کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے جماعت احمدیہ فیروز پور کو ایک مسجد خطا بد کردی اے I ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا گردوارے کی اینٹیں مسجد کی تعمیر میں استعمال کی جاسکتی ہیں جبکہ سکھوں نے ایسا کرنے کی اجازت دے دی ہے ؟ فرمایا۔اگر سکھوں نے اجازت دے دی ہے تو بے شک یہ اینٹیں مسجد میں استعمال کی جا سکتی ہیں لیکن اگر انہوں نے اجازت نہ دی ہو تو پھر انہیں استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کسی چیز کو بغیر اس کے مالکوں کی اعجاز کے استعمال کرنا اسلام میں منع ہے یا کے Sigur : - الفصل ۲۸ جوائی سفر بن :- الفصل یکم جنوری یہ لاہور ہے