فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 226 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 226

جواب : مسجد چونکہ وقف ہے اور مقامی جماعت بصورت متولی اس کی نگران ہے اس لئے اس میں ہر ضروری تصرف کے لئے مقامی جماعت باہمی مشورہ کے ساتھ مسجد کی عمارت کی بہتری کیلئے کوئی مناسب فیصلہ کر سکتی ہے۔اگر تعمیر کے لئے پختہ اینٹیں پڑی ہوئی ہوں لیکن تعمیر شروع ہونے میں دیر ہو اوران اینٹوں کے ضائع چلے جانے کا خدشہ ہو اور ان کو بیچ دینے یا کسی کو ارمضانہ دے دینے میں مسجد کا فائدہ ہو تو ند کورہ اصول کے مطابق ان اینٹوں کو بیچا جا سکتا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ اینٹیں اس شرط پر کسی دوسرے دوست کو دے دی جائیں کہ تعمیر شروع ہونے پر وہ اینٹیں خرید کر مسجد کو واپس کر دے گا۔کسی مسجد کے لئے چندہ سوال :۔ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبرکا آپ سے بھی چندہ چاہتے ہیں ؟ جوا ہے :- حضرت اقدس نے فرمایا :۔"ہم تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں مگر جبکہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔یہاں تو مسجد خدا بنا رہا ہے اور وہی مسجد اقصی ہے وہ سب سے مقدم ہے۔اب لوگوں کو چاہیے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر تو اب میں شامل ہوں۔ہمارا دوست وہ ہے جو ہماری بات کو مانے نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدم رکھتے۔حضرت امام ابو حنیفہ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔انہوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ نہیں دے سکتا حلانکہ وہ چاہتے توبہت کچھ دیتے۔اس شخص نے کہا کہ ہم آپ سے بہت نہیں مانگتے صرف تبر کا کچھ دے دیجئے۔آخر انہوں نے ایک دو آنے کے قریب سکہ دیا۔شام کے وقت وہ شخص دوا نے لے کر واپس آیا اور کہنے لگاکہ مصر یہ تو کھوٹے نکلے ہیں وہ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا خوب ہوا۔دراصل میرا جی نہیں چاہتا تھا۔کہ میں کچھ دوں۔مسجدیں بہت ہیں اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے " اے سوال ہے۔کیا احمدی تعمیر مسجد کے لئے دوسرے مسلمانوں یا غیرمسلموں سے چندہ لے سکتے ہیں ؟ ہوا ہے :۔اپنے آپ کو خواہ مخواہ دوسروں سے مانگنے والوں میں شامل نہیں کرنا چاہیئے اپنی کوشش سے 14۔1 ے: الحكم ۲۳ می شد