فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 214 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 214

۲۱۴ خوش ہے پوری کر دے۔اسے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کر نے والے : نماز اشراق نیزہ بھر سورج نکل آنے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا اس کے بعد جب دھوپ اچھی طرح نکل آئے اور گرمی کچھ بڑھ جائے تو چار رکعت یا آٹھ رکعت پڑھنا۔بعض روایات سے ثابت ہے۔پہلی دو رکعت کو صلوۃ الاشراق اور اس کے بعد کی نماز کو صلوۃ الضحی کہا گیا ہے۔صلوۃ الاوابین بھی اسی زمانہ کا نام ہے۔بعض کے نزدیک مغرب کے بعد جو نوافل ادا کئے جاتے ہیں انہی نوافل کا دوسرا نام صلوۃ الا وا بین ہی ہے بہر حال یہ نفل نماز پڑھنے کا ثواب احادیث سے ثابت ہے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اشراق کی رکعات پر مداومت ثابت نہیں مگر آپ کو جب موقع ملنا آپ انہیں ادا کرتے تھے۔نماز اشراق کا وقت سورج کے طلوع ہونے اور نیزہ دو نیزہ بلند ہو جانے پر شروع ہوتا ہے اور قریبا دو بجے دن تک رہتا ہے۔اس کی رکعتیں دو چار - آٹھ یا بارہ تک ہیں۔اس کے مطابق جتنی رکھتیں کوئی چاہے پڑھ لے۔اس نماز کو صلوۃ الاوابین اور صلوۃ الضحیٰ بھی کہتے ہیں۔اگر کوئی شخص ذرا سویر سے اشراق کی نماز چار رکعت پڑھ لے اور پھر نو یا دس بجے کے قریب چار رکعت مزید نفل پڑھے تو اس دوسری نمازہ کو چاشت کی نماز یا صلواۃ الضحی کہیں گے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جن دنوں کوئی خاص مصروفیت نہ ہوتی آپ کبھی کبھی صبح کی نماز پڑھ کر مسجد ہی میں تشریف رکھتے اور جب سورج طلوع ہونے کے بعد اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ مغرب سے پہلے عصر کی نماز کے آخری وقت بلند ہوتا ہے۔یعنی دو اڑھائی نیزہ کے براہمہ تو آپ چار رکعت نفل ادا فرماتے۔پھر جب سورج اتنا بلند ہو جاتا جتنا پچھلے پہر ظہر کے آخری وقت میں ہوتا ہے جسے پنجابی میں چھا دیلا" کہتے ہیں تو آپ مزید چار رکعت نفل ادا فرمائے۔اس حدیث کو ترمذی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔بہر حال یہ نمازہ گا ہے گا ہے کی ہے۔اس کے لئے کوئی خاص پابندی یا اہتمام ثابت نہیں۔سوال: کیا نماز اشراق اور اڈا بین علیحدہ علیحدہ نمازیں ہیں یا دونوں ایک ہی ہیں اور کس طرح اور کس وقت پڑھی جاتی ہیں؟ له : - قیام اللیل شیخ محمد بن نصر مروزی ملت ، مثث : له : - تريزی کتاب الصلوة باب كيف كان يتطوع النبي صلى الله عليه وسلم بالنهار :