فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 191 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 191

۱۹۱ ب - " عرض کیا گیا حضور بالہ جاتے ہیں تو قصر فرماتے ہیں۔فرمایا۔ہاں کیونکہ وہ سفر ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبیب یا حاکم بطور دورہ کئی گاؤں پھرتا رہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اُسے سفر نہیں کہہ سکتا ہے ج "جو شخص رات دن دورہ پر رہتا ہے اور اس بات کا ملازم ہے وہ حالت دورہ میں مسافر نہیں کہلا سکتا۔اس کو پوری نمانہ پڑھنی چاہیئے " ہے ۳ - سفر کے دوران کسی ایک جگہ قیام کتنے دنوں کا ہو تو انسان کو مقیم سمجھا جائے اور اسے پوری نماز پڑھنی چاہئیے ؟ الف : - حنفیوں کے نزدیک چودہ دن تک قیام کی نیت حالت سفر کو ختم نہیں کرتی البتہ اگر کسی قابل رہائش جگہ میں پندرہ یا دستی زیادہ دن قیام کی نیت ہو تو اقامت کا حکم ثابت ہو گا اور نمازہ پوری پڑھنی پڑے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں بیس دن تشریف فرما ر ہے لیکن آپ نے نماز قصر فرمائی کیونکہ جہاں آپ مقیم تھے وہ کوئی آبادی نہ تھی بلکہ ویران علاقہ تھا۔تے ب - حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اگر کہیں چار دن قیام کرنا ہو تو نماز پوری پڑھی جائے گی گویا تین دن قیام کی صورت میں نمانہ قصر کی جاسکتی ہے۔حضرت خلیفہ البیع الاول کا ارشاد ہے۔چار دن کا ارادہ اقامت ہو تو مسافر مقیم ہو جاتا ہے۔سے موطا امام مالک میں ہے۔من اجمع اقامة اربع ليال وهو مسافر اتم الصلوة فيه ج۔صحیح رائے یہ ہے کہ تین دن قیام کی نیت ہو تو نماز قصر کرنی چاہیئے کیونکہ یہ متفق علیہ مدت مسافرت ہے۔اس سے زیادہ چودہ دن تک قیام کی صورت میں اختیار ہے۔چاہے کوئی قصر کرے چاہے پوری پڑھے گو قصر زیادہ پسندیدہ ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا :- البدر ۲۳ جنوری شاه - فتاوی مسیح موعود : ۱۵ - الحکم ۲۳ اپریل تناه ، فتادی مسیح موعود من : : ابو داؤد كتاب الصلوۃ باب اذا اقام بارض العدو يقصر ملكا - تحفة الفقهاء من۔و: فتادی احمد یه م شه :- باب صلوة المسافر اذا اجمع مكشات :