فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 190
14۔تو امام دو رکعت پڑھے گا اور اس کے تعظیم مقندی کھڑے ہو کر بقیہ رکھتیں پوری کر کے سلام پھیریں گے ہے۔ان بقیہ دو رکعتوں میں وہ صرف سورۃ فاتحہ پڑھیں گے۔سفر اور قصر سوال : قصر کا مسئلہ کیا ہے۔نمازہ کب قصر کی جاتی ہے ؟ جواب : - جماعت احمدیہ کے مسلک کے مطابق مسافر کے لئے نماز قصر کرنے کے معنے یہ ہیں کہ وہ چار رکعت فرض نماز کی بجائے دو رکعت نماز پڑھے۔سفر کسے کہتے ہیں اور اس کی مقدار کتنی ہو اس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ایک تو سفر ہوتا ہے اور ایک سیر ہوتی ہے۔سفر کی نیت سے اگر تین کو میں جانا ہو جیسے لدھیانہ سے پھلور تو نماز قصر کرنی چاہیے۔یہی صحابہ کہ آم کا معمول تھا اور بعض ضعیف پیر فرتوت اور حاطہ عورتیں ہیں ان کے لئے تو کوس بھر ہی سفر ہو جاتا ہے ہاں سیر کے لئے چاہے آٹھ کوس چلا جائے۔نماز قصر نہیں ہے؟ ۲ ایک اور موقع پر سوال ہوا کہ اگر کوئی تین کو کسی سفر پر جائے تو کیا نمازوں کو قصر کہ ہے ؟ تو حضور نے فرمایا :- ہاں مگر دیکھو اپنی نیت کو خوب دیکھ لو۔ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔اگر کوئی ہر روز معمولی کا روبار یا سفر کے لئے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اس کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلاتا ہے " سے لها عن عمران بن حصين قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وشهدت معه الفتح فاقام بمكة ثماني عشرة ليلة لا يصلى الأركعتين ويقول يا اهل البلد صلوا اربعا فانا قوم سفر ابو داؤد كتاب الصلوة باب متى يتم المسافرص ان عمر بن الخطاب كان اذا قدم مكة صلى بهم ركعتين ثم يقول يا اهل مكة المواصلوتكم فانا قدم سفر (موطا مالک : نه تذکرۃ المہدی ملا فتادی احمدیه هنا : ۳ - فتاوی مسیح موعود ص :