فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 189
روایت ہے : -: نماز سفر عَنِ ابْنِ عُمَرَ انَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلوة ولا بعدها۔حضرت ابن عمر نہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں فرضوں سے پہلے اور بعد کوئی سنت نمازہ نہیں پڑھتے تھے۔شروع میں ظہر و عصر اور عشاء کی نمازہیں فجر کی طرح دو دو رکعت تھیں لیکن بعد میں سفر کی حالت میں تو یہ دو دو رکعت ہی رہیں لیکن اقامت کی حالت میں دوگنی یعنی چار چار رکعت کر دی گئیں اس تبدیلی کی بناء پر مسافر جس کا کسی جگہ پندرہ دن سے کم شہر نے کا ارادہ ہو ظہر عصر اور عشاء کی نماز دو دو رکعت پڑھے گا اور مقیم چار چار رکعت پڑھے گا۔مغرب اور فجر کی رکعتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں :- فرضت الصلوة ركعتين فى الحضر والسفر فاقرت صلواة السفر وزيد في صلوة الحضرية اگر انسان کسی ایسے عزیز کے گھر میں مقیم ہو جسے وہ اپنا ہی گھر سمجھتا ہے۔جیسے والدین کا گھر۔سسرال کا گھر یا مذہبی مرکز مثلاً مکہ مدینہ۔قادیان - ربوہ وغیرہ تو پندرہ دن سے کم قیام کے دوران میں چاہے تو اس رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو رکعت پڑھے اور چاہے تو پوری نماز یعنی چار رکعت پڑھے۔سفر میں وتمر اور فجر کی دو سنتوں کے علاوہ باقی سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔نقل پڑھے یا نہ پڑھے۔یہ انسان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔سفر میں نمازیں جمع کرنا بھی جائز ہے۔اگر امام مقیم ہو تو مسافر مقتدی اس کی اتباع میں پوری نمازہ پڑھے گا۔اور اگر امام مسافر ہو :- ترمذی کتاب الصلوۃ باب ما جاء في التطوع في المسفرصت : - کتاب الاثار باب الصلوة في السفر ص: - ترمذی کتاب الصلوۃ باب كم نقصر الصلواة صب : 179 ۱۳ - ابو داؤد باب صلاة المسافر من :