فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 188
میں بعد میں سنن اور نوافل نہیں پڑھنے چاہئیں کیونکہ عصر کے بعد نواخلی نا جائز ہیں۔خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق عمل کیا تھا یا آپ نے کیا فرمایا ہے۔اس بارہ میں یہ امر واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں جمع کرنے کی صورت میں سنتیں نہیں پڑھا کرتے تھے۔اسی طرح آپ کا کوئی فرمان بھی نہیں کہ اس صورت میں سنتیں ضرور پڑھی جائیں۔اس بارہ میں بخاری کی یہ روایت واضح ہے :- جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعِ كُل وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِاقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحُ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى أَثَرِ كُل واحدة منهما۔له یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ایام میں مزدلفہ کے مقام پر مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں۔ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ اقامت کہی گئی۔آپ نے سنتیں نہ درمیان میں پڑھیں اور نہ بعد س - لہ ، سے سوال :۔سفر میں صبح کی دو سنتیں کیوں معاف نہیں ہیں جبکہ دوسری نمازوں کی سنتیں معاف ہیں ؟ جواب :۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں صبح کی سنتیں پڑھی ہیں۔اس لئے اقمت بھی پڑھتی ہے متعلقہ حدیثیں درج ذیل ہیں :- 4> (۲) رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ رَكَعَنِي الْفَجْرِ له رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں فجر کی دو رکعت سنت نماز ادا کی۔فجر كَانَتْ عَائِشَة تَقُولُ لَمْ يَدَعِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قبل الفَجْرِ صَحِيحا وَلَا مَرِيضًا فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرِ حضرت عائشہ نہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہ آپ تندرست ہوتے یا بمیار - سفر میں ہوتے یا مقیم صبح کی دو رکعت سنت نماز پڑھنا کبھی ترک نہیں کیا۔در نه عام دستور آپ کا یہ تھا کہ باقی نمازوں میں آپ بحالت سفر سنتیں نہیں پڑھتے تھے۔چنانچہ ه : بخاری کتاب الحج باب من جمع بينهما ولم يتطوع : : ترندی البواب الصلوة السفر ص : : : - ابو داؤد كتاب الصلوة باب التطوع في السفر ص : ٢: بخارى كتاب الصلوة باب من تطوع في السحر ہے : کشف الغمہ ص ہے : -: