فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 156 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 156

104 جاسکتی ہے اور اسی ضرورت پوری ہو سکتی ہے تو اسی پر اکتفاء کی جائے اور اگر اسکی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو آگے قدم بڑھانے یعنی زبان سے غلطی کے درست کر دینے کی اجازت ہے قرأة میں غلطی کے درست کر دینے کی حدیث یہ ہے :- صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فترك آية فقال له رجل يا رسول الله اية كذا وكذا قال فهلا ذكر تنيها - له یعنی۔ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرأت میں ایک آیت بھول گئے۔ایک شخص نے نماز کے بعد توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا۔تم نے نماز میں یاد کیوں نہیں کرایا۔ایسی ہی ایک روایت حضر ابن عمرض سے بھی ہے۔علامہ شوکانی ان احادیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔عند نسيان الامام الآية في القرأة الجهرية يكون الفتح عليه بتذكيره تلك الآية كما في حديث الباب وعند نسيانه بغيرها من الاركان يكون الفتح بالتسليح للرجال والتصفيق للنساء - له یعنی اگر تو قرأت میں غلطی ہو تو آیت بتا کہ تصحیح کر دینی چاہیئے۔بتانے والا مرد ہو یا عورت اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔اور اگر کسی اور رکن میں غلطی ہو تو مرد سبحان اللہ کہ کر اور عور تیں تالی بجا کہ اصلاح کی طرف توجہ دلائیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرائت میں غلطی کی صورت میں مقتدیوں کے لئے بتانا ضروری نہیں بلکہ امام کو چاہیے کہ اگر تو کسی قدر وہ قرائت پڑھ چکا ہے اور آگے رک گیا ہے تو درستی کا انتظار کئے بغیر رکوع میں چلا جائے اور اگر ابتداء میں ہی رک گیا ہے تو کوئی اور آیت یا سورت شروع کر دے۔یہ بھی ایک مستحسن صورت ہے۔نماز اور زبان سوال : کیا نمازہ اپنی زبان میں پڑھنی جائز ہے ؟ جواب : خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہیئے۔ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خُدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں۔مگر اصل زبان کو ہرگزہ نہیں چھوڑنا چاہیئے۔عیسائیوں نے اصل نہبان کو چھوڑ کہ کیا پھل پایا۔کچھ بھی باقی رہا ؟ سے ه : ابو داؤد ے نیل الاوطانہ ص : : فتادی احمدیہ مت ، فتادی مسیح موعود ص :