فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 155 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 155

100 دنیا کے پیشہ ور لوگ بھی اپنے اپنے پیشہ پر ناز کرتے ہیں۔آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے کبھی اس طریق سے قرآن ختم نہیں کیا بلکہ چھوٹی چھوٹی سورتوں پر آپ نے اکتفا کیا۔لے امام قرأۃ میں غلطی کرے سوال : اگر فرض نماز میں امام کسی صورت کی کوئی آیت یا اس کا کچھ حصہ بھول جائے تو کیا نماز ہو جائیگی ؟ سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد نماز میں جس قدر قرآت ضروری ہے وہ ایک بڑی آیت یا کم اند کم تین چھوٹی آیتیں ہیں اگر کوئی امام اتنی مقدار قرأت پوری کر لے تو نماز صحیح ہو جاتی ہے۔اس لئے کسی بڑی سورت سے ایک آیت چھوٹ جانے سے نماز میں کچھ ہر ج واقع نہیں ہوتا۔رہا یہ کہ اس طرح سورت کے مفہوم میں فرق آجاتا ہے تو اگر ہوا ایسا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے نسیان اور سہو سے در گزر فرمایا ہے اور اس پر گرفت نہیں کی۔لہذا اس وجہ سے بھی نماز میں کسی قسم کا سقم باقی نہیں رہے گا۔قرآن کریم نے فرمایا ہے۔فاقروا ما تيسر من القرآن کہ جتنا آسانی اور سہولت سے قرآن کریم پڑھا جا سکے نماز میں پڑھ لو۔حدیث میں ہے:- عن إلى سعيد أنه قال امرنا ان نقرأ بفاتحة الكتاب وما تيسر یعنی۔ابوسعید کہتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھیں اور اس کے بعد جتنا حصہ قرآن کا سہولت سے پڑھا جا سکے پڑھیں۔امام الصلواۃ نماز میں غلطی کرے سوال :۔امام کے پیچھے صرف عورتیں نماز ادا کر رہی ہیں۔اگر امام قرآن پڑھنے میں غلطی کر سے تو کیا عورت لقمہ دے سکتی ہے ؟ جوا ہے :۔عام حکم یہ ہے کہ اگر امام دوسرے ارکان میں کوئی غلطی کرے تو مرد سبحان اللہ کہکر اور عورتیں تالی بجا کر امام کو توجہ دلائیں ہے اور اگر وہ قرأت میں غلطی کر سے تو مقتدی اپنی یادداشت کے مطابق لفظ کی تصحیح کر دیں۔یا اگر وہ پڑھتے پڑھتے رک گیا ہے تو اگلے الفاظ بتا دیں۔یہ عام حکم ہے اس میں مرد عورت کی تخصیص نہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ اگر صرف آواز پیدا کرنے سے توجہ دلائی : بدر ۱۹ جون شاه ، فتاری سیح موعود من سے انیل الاوطار باب وجوب قرأة الفاتح جلد ٢ ص ٣ : بخارى كتاب العمل في الصلوة باب التصفية النساء خلدا طلا :