فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 154 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 154

۱۵۴ لیکن ہمارے مسلک کے مطابق یہ صرف جائز ہے ضروری نہیں۔نماز میں کسی آیت کا انکار سوال 1- اگر امام جماعت کراتے ہوئے کسی آیت کا تکرار کرے مثلاً سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعبُدُو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ يا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم وغیرہ بار بار پڑھے تو کیا یہ جائز ہے؟ جوا ہے۔کبھی کبھی جبکہ انسان پر خاص کیفیت طاری ہو اور وہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْن یا اس قسم کی کسی اور آیت کو نماز میں بارہ بار پڑھے تو یہ جائز ہے۔ہاں اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کئی بار کسی آیت کو دہرا لیتے تھے ہم نے متعدد دفعہ آپ کو ایسا پڑھتے سُنا ہے۔۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ان تعذ بهم فانهم عبادك کو نماز میں بہت دفعہ دہرایا۔اسی طرح آپ ایک ہی سورۃ کو ایک رکعت میں بنکہ ار پڑھ لیا کرتے تھے یہ لے آیا تے کی ترتیب سوال : کیا ترتیب قرآن ضروری ہے ؟ جواہے :۔آیت کے اُلٹنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔کیونکہ اس کی ترتیب براہ راست اللہ تعالیٰ کی وحی جلی کے تابع ہے۔نیز اسی مفہوم میں بعض اوقات زمین و آسمان کا فرق پڑ جاتا ہے لیکن سورتوں کی ترتیب میں یہ بات نہیں گو یہ تر تیب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی بتائی ہوئی ہے بہر حال نماز میں سورتوں کے آگے پیچھے پڑھنے سے نمازہ فاسد نہیں ہوتی۔البتہ علماء نے اسے ناپسند ضرور کیا ہے۔چنانچہ فقہ کی کتابوں میں یہ تصریح موجود ہے کہ اگر جان بوجھ کر ایسا کیا جائے تو یہ طرزہ مکروہ اور تعامل امت کی خلاف ورزی ہے۔کہ قرآن کریم جلد جلد پڑھنا سوال :۔ایک رکعت میں قرآن شریف ختم کرنے کا رواج ہے کیا یہ جائز ہے ؟ جواہ:۔بعض لوگ جو ایک رکعت میں قرآن شریف ختم کرنا فخر سمجھتے ہیں وہ در حقیقت راف مارتے ہیں۔له : كشف الغمة جلد اصلا مصری : ۰۲ : نیل الاوطار جلد ۲ منا و فقه مذاهب اریجه