فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 153
۱۵۳ کیوں نہ پڑھتا۔اس کا اعتقاد تو یہی ہے کہ الحمد للہ پڑھ لوں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔نیت کے ساتھ موجب ارشاد نبوی انما الاعمال بالنيات عمل کا دار و مدار ہے اس کو اتنی مہلت نہ ملی۔دل میں تو اس کا اعتقاد ہے وہ رکعت اسکی ضرور ہوگئی۔اسے جماعت سے رہی ہوئی رکعتیں کیسے پڑھے سوال :۔امام نے جب کچھ رکھتیں پڑھ لیں تو ایک شخص آکر شامل ہوا۔سلام کے بعد وہ مسبوق ان رکھتوں کو کس طرح پڑھے گا۔جواہے :۔امام کے سلام کے بعد جب وہ بقیہ رکھتوں کو پڑھنے کے لئے اُٹھے گا تو پہلی رکعت میں ثناء، تعوذ، فاتحہ اور سورۃ پڑھے گا۔دوسری میں فاتحہ اور سورۃ۔البتہ درمیانی مشهد کے لئے امام کے ساتھ پڑھی ہوئی رکعت بھی محسوب ہوگی۔مثلاً اگر اس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھی ہے تو امام کے سلام کے بعد اُسے ایک رکعت اور پڑھ کر درمیانی تشہد کے لئے بیٹھنا ہوگا۔اگر کوئی شخص صرف آخری تشہد میں آکر شامل ہو تو اُسے بعد میں بالکل اسی طرح نماز پڑھنی چاہیئے جیسے وہ اکیلا نماز پڑھ رہا ہو۔یعنی پہلی رکعت میں ثناء ، تعوذ ، فاتحہ اور سورۃ دوسری رکعت میں فاتحہ اور سورۃ پڑھے گا اور باقی رکھتوں میں صرف فاتحہ۔سوال :۔ظہر اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ کوئی دوسری سورۃ بھی پڑھ سکتا ہے؟ جواہ: ظہر یا عصر کی پہلی دور کھتوں میں مقتدی فاتحہ کے علاوہ کوئی اور سورۃ بھی پڑھ سکتے ہیں۔اس میں نہ کوئی قباحت ہے اور نہ ہی اس کا پڑھنا ضروری ہے۔یعنی اجازت ہے اور پڑھنے پر ثواب کی اُمید کی جاسکتی ہے۔علامہ ابن رشد نے امام مالک کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے انه يستحسن القرأة فيما اسرفيه الامام۔یعنی جن نمازوں میں امام آہستہ قرأۃ پڑھتا ہے ان میں مقتدی کے لئے اچھا ہے کہ وہ بھی سورۃ فاتحہ کے علاوہ کوئی اور سورۃ پڑھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی اپنی تفسیر میں ایسا ہی لکھا ہے۔حضرت امام شافعی گستری نمازوں میں مقتدی کے لئے سورۃ کے پڑھنے کو ایسا ہی ضروری سمجھتے ہیں جیسے سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے یہ لها تذكرة المهدی ، فتاوی مسیح موعود من + ۲ : بداية المجتهد اس تفسیر کبیر و فاتح الناس :