فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 152 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 152

۱۵۲ فیصلہ دیا اور فرمایا :- ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لا صلوۃ الا بفاتحة الکتاب۔آدمی امام کے پیچھے ہویا منفرد ہو۔ہر حالت میں اس کو چاہیے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے۔مگر امام کو نہ چاہیئے کہ جلدی جلدی سورۃ فاتحہ پڑھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تاکہ مقتدی سُن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی ہے۔یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔بہر حال مقتدی کو یہ موقع دینا چاہیئے کہ وہ سُن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے۔کیونکہ وہ ام الکتاب ہے لیکن جو شخص باوجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کے لئے کرتا ہے رکوع میں ہی آکر ملا ہے اور اسی پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگئی اگر چہ اس نے سورہ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع پالیا اس کی رکعت ہو گئی۔مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں ایک جگہ تو حضرت رسول کریم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماند میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھیں وہ ام الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے مگر جو شخص با وجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آکر ملا ہے اور چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے اس واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہوگئی۔وہ سورۃ فاتحہ کا منکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔ہاں جو شخص عمد استی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے تو اس کی نماز ہی فاسد ہے؟ لے وال - - امام سورة فاتح پڑھ چکاہے اور پھر کوئی مقتدی کو شامل ہوا ہے وہ کیا کر ے شاو اور سورۃ فاتحہ وغیرہ پڑھے یا قراۃ سنے۔جوار ہے۔مقتدی ثناء اور سورۃ فاتحہ ضرور پڑھے کیونکہ آہستہ آہستہ پڑھنا سننے کے منافی نہیں۔ہاں اگر امام رکوع میں چلا گیا ہو اور مقتدی نے ابھی سورۃ فاتحہ ختم نہ کی ہو تو اس صورت میں مقتدی بھی فوڈا رکوع میں چلا جائے اور بقیہ سورۃ فاتحہ کو رہنے دے۔اسی قسم کے ایک سوال کے موقع پر مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ وہ رکعت اس کی نہیں ہوگی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ رکعت اس کی ہوگئی۔بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ اگر اس کو موقع ملتا کہ وہ الحمد پڑھ لیتا تو کیا وہ الحمد نہ پڑھتا۔مولوی صاحب موصوف نے عرض کیا کہ الحکم ۲۲ فروری شاه - فتادی مسیح موعود منه :