فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 142
۱۴۲ حضرت اقدس نے فرمایا۔کہ پیش امام کی اس معامہ میں غلطی ہے۔اس کو چاہیے کہ مقتدیوں کی حالت کا لحاظ رکھے اور نمازہ کو ایسی صورت میں بہت لمبا نہ کر سے لے امام کا انتظار سوال :۔امام کے آنے میں کچھ دیر ہو جائے تو کیا ایک شخص اکیلا نماز پڑھ سکتا ہے ؟ جو اہے :- نماز مل کر پڑھنے کا حکم ہے۔یعنی یہ کہ اکٹھے ہو کر با جماعت پڑھو۔اب اگر امام کو آنے میں دیر ہو جائے اور کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ لے تو اس کے لئے ہر گز جائز نہیں ہے۔شریعت نے ہر نماز کے لئے وقت کا جو اندازہ مقررہ کیا ہے کہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک نمازہ ہو سکتی ہے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اگر تھوڑی دیہ آگا پیچھا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں اگر یہ مد نظر نہ ہوتا تو شریعت میں خاص وقت مقرر کر دیا جاتا کہ میں فلاں وقت پر فلاں نماز ادا کر د جگر ایسا نہیں کیا گیا " ہے سوال :۔نمازیوں کے آنے کا انتظار ؟ جواب: - اصولاً یہ بات درست ہے کہ نماز با جماعت کے لئے نمازیوں کے جمع ہونے کا انتظار کیا جائے تا کہ جماعت میں کثرت سے لوگ شریک ہو سکیں۔حدیث میں آتا ہے کہ جتنے زیادہ نمازی ہوں اتنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔لیکن دوسری طرف آجکل کی مصروفیت اس بات کی مقتضی ہے کہ زیادہ دیر تک لوگوں کو نہ روکا جائے تاکہ اُن میں اکتاہٹ پیدا نہ ہو۔اور زمانہ کے نئے آنے میں جو بشاشت ہے اُس میں کمی نہ آئے۔اس مصلحت کے پیش نظر نمازوں کے لئے آجکل وقت مقریہ کہ دیا جاتا ہے کہ فلاں نماز فلاں وقت ہوگی۔عام حالات میں اس کی پابندی کرنی چاہیئے۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو وقت کی پابندی کی عادت پڑے گی اور اس طرح وہ دوسروں کا وقت ضائع کرنے کا موجب نہیں نہیں گئے۔تاہم یہ ایک انتظامی امر ہے شرعاً ایسی پابندی ضروری نہیں کہ وقت کو آگے پیچھے نہ کیا جاسکے۔اگر امام الصلوۃ مناسب خیال کریں کہ نمازی تھوڑسے آئے ہیں اور مزید انتظارہ کہ لیا جائے تو ان کا یہ فیصلہ جائے اعتراض نہیں بنا چاہیے اور کسی ایک کو اس پر شدید معترض نہیں ہونا چاہیے۔نیز اس امر کا تعلق منتظم کی قوت تمیزی سے بھی ہے حالات کے مطابق وہ اپنی صوابدید پر فیصلہ کر سکتا ہے کہ زیادہ لوگوں کے آنے کے لئے انتظار مناسب نه: البدر ۳۱ اکتوبر نشر : ۱۹ - الفضل ۳ جولائی ۳ :