فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 134
امام الصلوة کا تقرر والے :- کیا امام کا تقریر مرکنہ اسلام کے دائرہ اختیار میں ہے ؟ جوا ہے :۔امام کے فقر کا اختیار خلیفہ وقت یا اس کے مقرر کردہ نمائندہ کو ہے۔شروع سے ہی نظام اسلامی اسی طرح پر رائج رہا۔جو والی یا امیر مرکز سے مقرر کر کے بھجوایا جاتا ہے وہ امام الصلواة بھی ہوتا ہے۔ہاں بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی جگہ ولایت اور امامت کے لئے دو الگ الگ آدمی بھجوائے گئے۔اسی طرح ائمہ کو حکومت کی طرف سے باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی تھیں۔اگر ان کے تقری کا اختیار مرکز کو نہ تھا تو مرکز نے انہیں تنخواہیں دینے کی ذمہ داری کس بنا سیر لی۔علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں :- بنا پر۔عن الحسن رحمة الله عليه ان عمر و عثمان بن عفان رضی الله۔عنهما كانا يرزقان الأئمة والمؤذنين والمعلمين والقضاة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیرہ کو مدینہ بھجوایا تا کہ وہ لوگوں کو قرآن کریم پڑھائیں اور نمازہ کی امامت کرائیں۔چنانچہ لکھا ہے :- تما انصرت القوم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم یعنی ليلة العقبة بحث معهم مصعب بن عمير ثم هَاجَدَ الى المدينة بعد العقبة الاولى ليعلم القرآن ويصلى بهمه الغرض تمام فقہاء امام کے تقریر کو مرکزہ اسلام کے اختیارات میں شمار کرتے ہیں نیز اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اگر کہیں امام وقت جائے اور وہاں اس کا نائب بھی ہو تو امام وقت کو نماز کی امامت کہ انے کا زیادہ حق ہوگا۔چنانچہ فقہ کی مشہور کتاب المغنی لابن قدامہ میں لکھا ہے :۔ان دخل السلطان بلد اله فيه خليفة فهو احق من خليفته لان ولايته على خليفته وغيره له : سيرة معمر بن الخطاب ملا : ١٥٢- اسد الغابـ -1 149 : : المغنی لابن قدامه من :