فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 133
۱۳۳ ہے کہ ایسے شخص کا گھر جلادوں کجا یہ کہ بلکلی نماند کا تارک ہو۔جو شخص جماعت کے ساتھ نمازہ اور کرنے کی کوشش نہیں کرتا اور ہر ایک نماز اس کی جماعت سے رہ جاتی ہے اور اس ا نہیں ستی و شخصی کے اس داخل ہی نہیں۔اس کا ظاہری علاج نصیحت ہے اور وغطہ ہے اور بانی علاج دعا بہت جو اس سے بھی نہ مجھے خلیفہ وقت سے اجازت سے کہ اسے اپنی جماعت سے الگ کر دینا چاہیئے۔نمازہ اسلام کا ایک رکن ہے فوج میں لنگڑے آدمی نہیں رکھتے جاتے لیے سوال : بعض اوقات صبح کی نماز ایسے وقت میں ہوتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے بھی صبح نہیں ہوئی ایسی صورت میں جماعت کے ساتھ شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارہ میں کیا حکم ہے؟ جواب : - آخر دوسرے لوگ وقت کجھ کر ہی نماز پڑھتے ہوں گے اور یوں ہی اپنی نمانہ کو ضائع نہیں کرتے ہوں گے۔اس واسطے ایک شخص کو اپنی رائے باقی جماعت کی رائے پر قربان کر دینی چاہیے۔اور علیحدگی نہیں اختیار کرنی چاہیے۔حدیث میں آتا ہے یہ من فارق الجماعة شبرا فيموت ميتة جاهلية : د بخاری کتاب الفتن باب قول النبی صلی اللہ علیہ ولکم مستوردون بعدی امورات جلد