فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 129
۱۲۹ فوراً جماعت میں شامل ہو جائے اور اگر علیحدہ مقتدیوں کی صف سے فاصلہ پر نما نہ پڑھ رہا ہے۔اور اُسے امید ہے کہ وہ اپنی نماز پوری کر کے امام کے ساتھ پہلی رکعت کے رکوع میں شامل ہو جائے گا تو وہ نما نہ پوری کر سکتا ہے ورنہ نہیں۔جو سنتیں نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہیں جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے اگر وہ رہ گئی ہوں تو جماعت کے بعد ان سنتوں کو پڑھ لیا جائے۔صبح کی سنتیں اگر رہ گئی ہوں تو فجر کی فرض نمازہ کے بعد پڑھ لی جائیں۔اگر کوئی شخص کھلی جگہ میں نماز پڑھ رہا ہو تو وہ نمازی اپنی سجدہ گاہ سے کچھ فاصلے پر سترہ گاڑ دے۔یعنی اپنی چھڑی یا کوئی لکڑی نصب کر سے یا کوئی اور نشان رکھد سے تاکہ اگر کسی شخص نے سامینہ سے گزرنا ہے تو وہ مسترا کے پرے سے گزر سے اور نمازی اور سنترہ کے درمیان سے گزرنے کی کوشش نہ کرہ ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نمانہ باہر کھلی جگہ میں پڑھاتے تو سامنے اپنا چھوٹا نیزہ گاڑ لیتے۔سفر میں بھی عمو گا آپ کا یہی طریق ہوتا۔بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قرأت میں جب کسی ایسی آیت کی تلاوت فرماتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے یا جنت و دوزخ کا ذکر آیا ہے یا عظمت الہی کے متعلق استفسار ہے تو ایسی صورت میں صحابہ اس کا جواب دیتے اس کی اتباع میں آج بھی اس سنت پر عمل کیا جاتا ہے۔مثلاً اگر امام سبح اسم ربك الأعلى پڑھے تو مقتدی کسی قدر بلند آواز سے سُبحان ربی الاعلیٰ کہیں اور اگرہ تُم اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ پڑھے تو مقتدى اللهُم حَاسِبُنَا حِسَابًا يَسِيراً پڑھیں۔یا اگر وہ اليْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْعَالَمین پڑھے تو مقتدى بلى وانا عَلَى ذَالِكَ مِنَ الشَّهِدِينَ پڑھیں۔امام نماز میں صرف اپنے لئے دعا نہ کہ ہے۔بلکہ مقتدیوں کو بھی دعا میں شامل کرے اور ان کے لئے بھی دعا کرہ ہے۔نمانه با جماعت کی حکمت حدیث میں آتا ہے کہ نماز با جماعت سے ستائیں گنا نہ یادہ ثواب ملتا ہے۔مسجد کی طرف ہر قدم نیکی شمار ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔نماز با جماعت کے ثواب کا اگر مسلمانوں کو اندازہ ہو اور گھٹنوں کے بل اس کے لئے ان کو آنا پڑ سے تب بھی وہ آئیں۔نماز با جماعت کے ذریعہ اجتماعی دعا کی توفیق ملتی ہے۔نماز با جماعت سے اتحاد اسلامی تنظیم اور