فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 125 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 125

۱۲۵ نماز با جماعت نماز با جماعت واجب ہے بلاعذرو مجبوری مردوں کے لئے فرض نمازہ اکیلے پڑھنا جائز نہیں۔اس طرح ان کی نمازہ صحیح نہ ہوگی مسجد میں نماز با جماعت کے لئے ہی بنائی جاتی ہیں۔با جماعت نماز کیے تھے یہ ہیں کہ ایک شخص نماز پڑھانے کے لئے آگے کھڑا ہو اور دوسرے اس کے پیچھے صف بنائیں اور جس طرح وہ نماز پڑھے اسی طرح پیچھے اس کی اقتداء کرنے والے نماز پڑھیں آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھانے والے کو امام اور جو پیچھے صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں ان کو مقتدی کہا جاتا ہے۔جو نیت امام کی ہو رہی مقتن کی ہونی چاہیئے۔البتہ بوقت ضرورت فرض پڑھنے والے کے پیچھے نفل نماز کی نیت ہو سکتی ہے۔اس کے سوا باقی نماز کے ہرئیں میں ادام کی پیشی را تباع ضروری ہے۔ایسا نہ ہو کہ اس کے رکوع کرنے سے پہلے معتمدا رکورد کہ سے یا اس کے سجدہ میں جانے سے پہلے سجدہ میں چلا جائے بلکہ نامہ کی حرکت کی سردی کی جائے۔ابو استار و آن هم سایت سے ہو ان دانمان میں ہوں۔امام جماعت مؤمنین مبائعین میں سے ایسے شخص کو بنا یا بھا گئے ہو تاکہ ہر ہو۔عاقل بالغ ہو۔علیم دین سے واقف اور نماز کے مسائل جانتا ہو۔ایسے شخص کو انام نہ بنایا جائے جس کی امامت کو عام لوگ پسند نہ کر تے ہوں نما نہ پڑھانے کا سب ست مقدم میں بیعہ دست یا ان کے مقرر کردہ امیر کو ہے۔پھر اس شخص کو جسے لوگوں نے امام مقرر کیا ہوا ہے اس کی اجازت سے کوئی اور شخص بھی نما نہ پڑھا سکتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھ سکتا ہے وہ ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا جو ان پڑھ ہے۔اور اگر بالغوں میں سے کوئی شخص پڑھا ہوا نہ ہو لیکن ایک سمجھدار نابالغ لڑکا قرآن جانتا ہو تو ایسا لہ کا ان پڑھ نابالغوں کا امام بن سکتا ہے۔عورت مردوں کی امام نہیں بن سکتی۔البتہ اگر نماز پڑھنے والی ساری کی ساری عورتیں ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک کو امام بنا سکتی ہیں۔اس صورت میں جو غوریہ ہے، امام۔۔بنہ وہ صف کے اندر کھڑی ہو۔عورتوں کی نمانہ با جماعت کے لئے اذان کی ضرورت نہیں۔صرف اقامت کافی ہے۔عورتیں اگر کسی جگہ جمع ہوں تو چاہیے کہ وہ نما نہ باجماعت ادا کریں۔است ثواب زیادہ ملے گا گو ان کے لئے ایسا