فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 122 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 122

اجازت اور رضامندی سے یہ تبدیلی ہونی چاہیے۔۔۔۔سوال : - باجماعت نماز میں دائیں طرف سے اقامت کہنے میں کیا حکمت ہے ؟ جواب : - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دائیں جانب میں برکت ہے بہتر ہے کہ ہر کام دائیں طرف سے ہو۔تاہم یہ کوئی ضروری حکم نہیں کہ اقامت کہنے والا ضرور دائیں طرف ہی کھڑا ہو۔وہ شخص بھی اقامت کہہ سکتا ہے جو بائیں جانب کھڑا ہو۔اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں۔سوال ہے۔اگر مغرب کی اذان بادلوں کے باعث غروب آفتاب سے پہلے ہو جائے اور نماز بھی پڑھ لی جائے بعد میں پتہ چلے کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا تو کیا یہ نماز دھرانی ضروری ہے ؟ جواب : نماز اگر وقت سے پہلے ادا کر لی جائے مثلاً مطلع ابر آلود ہو اور یہ معلوم نہ ہو سکے کہ سورج غروب ہو گیا ہے یا نہیں اور نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا تو ایسی صورت میں نماز دوبارہ پڑھی جائے۔ہاں اگر لوگ جاچکے ہوں اور انہیں ایسی صورت کا علم نہیں ہو سکا تو وہ معذور ہیں اس لئے عدم علم کی بناء پر وہ اس افادہ کے مخاطب نہیں ہوں گے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ایک بار اس طرح قبل از وقت نماز پڑھا دی بعد میں انہیں اس کا علم ہوا۔چنانچہ انہوں نے یہ نما نہ دوبارہ پڑھی سیہ وقت کے اندر نماز پڑھنا صحت نماز کے لئے ضروری شرط ہے اور جس طرح کسی اور شرط کے ترک سے (مثلاً طہارت نہ ہو خواہ ہوا ہی ایسی صورت ہو) اعادہ ضروری ہوتا ہے اسی طرح اگر وقت سے پہلے غلطی سے نماز ادا ہو تو اس کا اعادہ بھی ضروری ہوگا۔سوال: کیا مسجد کے اندر اذان دینا منع ہے ؟ جواب : مسجد میں اذان دینے میں کوئی حرج نہیں اس کی ممانعت کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے۔البتہ یہ جائز ہے کہ اذان کے لئے مسجد کے ساتھ کوئی الگ اُونچی جگہ مینارہ یا چبوترے کی شکل بنادی جائے۔مکہ مکرمہ میں اذان کی جگہ مسجد حرام کے اندر ہے۔حدیث میں ہے:- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن منبر کے پاس (جو یقینا مسجد کے اندر رکھا ہوا تھا، ایک ہی اذان دی جاتی تھی۔بعد میں حضرت عثمان کے زمانہ میں دوسری اذان کا رواج پڑا۔جو مسجد کے دروازہ پر پڑے ہوئے ایک بڑے پتھر یہ کھڑے ہو کر دی جاتی تھی جس کا نام زوراء تھائیے کشف الغمر كتاب الصلوة مث١٢ جلد اوّل : بخاری باب التاذين عند الاذان يوم الجمعه ص ۱۳ جلد اول