فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 121
ان روایات سے ظاہر ہے کہ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی اذان میں شامل ہو چکے تھے۔ا: کیا نماند با جماعت کے لئے اذان ضروری ہے ؟ جو اسے : ہاں اذان ہونی چاہیئے لیکن اللہ وہ لوگ جنہوں سے جماعت میں شامل ہونا ہے وہیں موجود ہوں تو اگر اذان نہ کہی جائے اور صرف اقامت پر اکتفاء کیا جائے تو کچھ حرج نہیں۔لوگوں نے اس کے متعلق مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔مگر میں ایک دفعہ حضرت صاحب کے ہمراہ گورداسپور کو جا رہا تھا۔راستہ میں نماز کا وقت آیا۔عرض کیا گیا کہ اذان کہی جائے ؟ فرمایا۔کہ احباب تو جمع ہیں کیا ضرورت ہے۔اس لئے اگر ایسی صورت ہو تو نہ دی جائے ور نه اذان دینا ضروری ہے۔کیونکہ اسی کسی دوسرے کو بھی تحریک نمانہ ہوتی ہے یہ اگھر اکیلے نماز پڑھنی ہو تو اذان ضروری نہیں۔جس صورت میں پہلے اذان نہیں ہوئی اذان دینی چاہیئے خواہ بالکل آہستہ آہستہ آوازہ سے ہی کیوں نہ ہو۔تاہم اگر کسی جگہ شرارت یا فتنہ کا ڈر ہو تو پھر ترک میں بھی کوئی حرج نہیں۔صرف اقامت کافی ہوگی۔سوال :۔جمعہ کے دن مسجد میں جو سب سے پہلے آئے کیا وہی اذان دینے کا مستحق ہے ؟ جواہے :۔اصل یہ ہے کہ اذان کے لئے جس شخص کو مقرر کر دیا جائے وہی اذان بھی دے اور اقامت بھی کہے جمعہ کے روز دوسری اذان بھی وہی دے۔البتہ منتظم مجانہ کی اجازت سے کوئی اور شخص بھی دوسری اذان یا اقامت کہ سکتا ہے۔لیکن اگر مسجد میں موذن مقرر نہیں تو پھر امام جسے چاہیے اذان اور اقامت کے لئے کہہ دے یا جو اذان دے سکتا ہے اور موقع پر موجود ہے وہ اذان دیدے۔تاہم یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ مسجد میں جو پہلے آئے اذان کہنا اس کا حق ہو جاتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ زیاد بن حارثہ نامی ایک شخص نے حضور علیہ السلام کی اجازت سے اذان دی اور اقامت کے وقت حضرت بلال اقامت کہنے لگے تو آپ نے فرمایا کہ جنسی اذان دی ہے وہی اقامت کہیے لیے دوسری روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض افضلیت کے لحاظ سے ہدایت ہے ورنہ یہ جائز ہے کہ اذان کوئی کہے اور اقامت کوئی اور۔مگر امام یا اذان کہنے والے کی له الفضل ۱۹ جنوری ۱۹۲۳مه: : مسند احمد جلد م ا ، نیل الاوطار جلد ۲ صداها