فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 116
114 کے دلائل پیش کرنا کافی ہے تاکہ یہ غلط فہمی نہ رہے۔تسبیح پھیرنے کے متعلق سوال: تسبیح کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب :۔فرمایا۔تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور اس گفتی کو پوڈر کر نا چاہتا ہے۔اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کر ہے۔اور یہ صاف بات ہے کہ گنتی کو پوراکرنے کی فکر کرنے والا بچی تو یہ کہ ہی نہیں سکتا ہے۔انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ جن کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذوق ہوتا ہے اور جو اللہ تعالٰی کے عشق میں نناشدہ ہوتے ہیں۔انہوں نے گنتی نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔اہل حق تو ہر وقت خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں ان کے لئے گنتی کا سوال اور خیال ہی بے ہودہ ہے۔کیا کوئی اپنے محبوب کا نام گن کر لیا کرتا ہے اگر سچی محبت اللہ تعالٰی سے ہوا اور پوری توجہ الی اللہ ہو تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ پھر گنتی کا خیال پیدا ہی کیوں ہوگا وہ تو اسی ذکر کو اپنی روح کی غذا سمجھے گا اور جس قدر کثرت سے سوال کریگا زیادہ لطف اور ذوق محسوس کرے گا اور اس میں ترقی کر سے گا۔لیکن اگر محض گنتی مقصود ہوگا تو وہ اسے ایک بیگا نہ سمجھ کر پورا کرنا چاہے گا۔اے سوال : کیا حائضہ درود شریف اور مسنون دعائیں وغیرہ پڑھ سکتی ہے ؟ جواب :- ایام حیض میں ذکر الہی یعنی درود شریف اور مسنون دعائیں پڑھنا منع نہیں۔فقہ حنفی کی مشہور کتاب شرح الوقایہ میں لکھا ہے " ولا تقرأ العائض ک جنب ونفساء وسائر الادعية والاذکار لا باس بها یه یعنی جنبی اور نفاس والی کی طرح حائضہ بھی قرآن شریف نہ پڑھے لیکن دعائیں اور اذکار کر سکتی ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ، تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں :- نفاس اور حیض کی حالت میں ذکر الہی منع نہیں۔لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی رات میں دل میں بھی ذکر الہی نہیں کیا جا سکتا حالانکہ اگر ذکر الہی منع ہو جائے تو روحانیت بالکل کر جائے " سے الحلم ارجون شاه ، فتاوی مسیح موعود ملا له : شرح الوقایہ جنس : که : تفسير سورة مريم آیت ۲۷ منشا :