فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 115 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 115

110 وكل بدعة في النار عید کے دوسرے خطبہ کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنے کے بارے میں نماز عید کا باب دیکھیں۔سوال: ۳۳ بار الحمد لله ، سبحان اللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر فرض نماز کے معاً بعد پڑھنی چاہیے یا سنتوں کے بعد ؟ ہوا ہے :۔نماز کے بعد ماثور ذکر کے بارہ میں اختلاف ہے۔حنفی کہتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ فرض نمانہ کے بعد صرف اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت ياذا الجلاك والاکرام پڑھے۔پھر سنتیں ادا کرے پھر اس کے بعد تسبیح و تحمید وغیرہ مسنون اذکار کرے باقی احمد (امام مالک ، شافعی - احمد کہتے ہیں کہ سنتوں سے پہلے یہ ذکر کر نا زیادہ بہتر ہے۔حدیث میں پوری وضاحت سے تفصیل نہیں ملتی۔بعض احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو حجر فرض نمازوں کے فورا بعد اُٹھ کھڑے ہوتے تھے۔یہ بھی آیا ہے کہ زیادہ تر اللهم انت السلام۔الحدیث پڑھتے تھے۔کچھ حدیثیں ایسی بھی ہیں کہ حضور نے فرض کے بعد لیے ذکر کو پسند فرمایا۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حالات کے مانحت یہ تبدیلی ہوتی تھی کبھی فرض نماز کے مقابلہ ذکر کر لیا جاتا اور کبھی سنتوں کی ادائیگی کے اور لے سوال :- نماز کے بعد ذکر بالجہر کے بارہ میں کیا ارشاد ہے ؟ جواب :۔جب دو باتیں جائز ہوں اور ان میں سے ایک راج نظر آئے تو اس پر عمل پیرا ہونا زیادہ پسندیدہ ہے۔اس کی عام مثال یہ ہے کہ آمین بالجہر اور باکسر کے متعلق دونوں قسم کی حدیثیں ملتی ہیں لیکن زیادہ راجح بالجہر کہنا ہے اور اسی یہ ہمارا عمل ہے۔لیکن دوسرا طریق بھی درست ہے۔اس لئے ہم بالسر کہنے کو غلطی یا گناہ نہیں سمجھتے۔اسی طرح نمازنہ کے بعد ذكر بالسر کو ترجیح حاصل ہے۔عمل متواتر سے یہی ثابت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام جو حکم و عدل ہیں اسی پر عمل پیرا ر ہے ہیں اور جماعت کا مسلک اس کے مطابق ہے۔تاہم ذکر بالجہر کی بھی بعض احادیث میں اجازت ہے اس کو اختیار کرنے والے غلط کار قرار نہیں دیئے جاسکتے۔اس لئے بہتر طریق اختیار کرنے کے لئے تلقین میں تو حرج نہیں لیکن جھگڑنا یا سختی سے کام لیتا درست نہیں۔صرف محبت سے سمجھا دینا یا اپنے مسلک کے جو انہ یا راج ہونے : - الفضل ار ضروری اشته، ۱۸ مارچ : نه: نیل الاوطار جلد ۲ ۳ تا به او جزا المالک شرح موطا امام مالک جلد ا اوجز