فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 114
۱۱۴ نماز کے بعد دعا آج کل لوگ جلدی جلدی نماز کو ختم کرتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں مانگنے بیٹھتے ہیں یہ بدعت ہے۔جس نماز میں تفریح نہیں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں۔خُدا تعالیٰ سے رقت کے ساتھ دعا نہیں وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔نماز وہ ہے جس میں دعا کا مزا آجائے۔خُدا کی حضوری میں ایسی توجہ سے کھڑے ہو جاؤ کہ رقت طاری ہو جاوے جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتا ر ہوتا ہے اور اس کے واسطے قید یا پھانسی کا فتویٰ لگنے والا ہوتا ہے۔اس کی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے۔ایسے ہی خوفزدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہیئے۔جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے۔اور منہ سے کچھ نکلتا ہے وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ویل للمصلين الذين هم عن صلاتهم ساهون جس میں مزا آجاوے ایسی ہی نمازہ کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔نماز مومن کی ترقی کا ذریعہ ہے۔ان الحسنات يذهبن السيئات - نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔دیکھو بخیل سے بھی انسان مانگتا رہتا ہے تو وہ بھی کسی نہ کسی وقت کچھ دے دیتا ہے اور رحم کھاتا ہے خدا تعالیٰ تو خود حکم دیتا ہے کہ مجھ سے مانگو اور میں تمہیں دوں گا۔ہے سوال : کیا نماز اور اذان کے بعد ہاتھ اٹھا کہ دعا مانگنا ضروری ہے ؟ جواب : - آذان اور نماز کے بعد ذکر الہی اور دعا مانگنے کا حکم ہے لیکن اس کے لئے ہاتھ اٹھانا ضروری نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے پسند نہیں فرماتے تھے اس لئے دوام اور التزام نہیں چاہئیے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ان مواقع پر ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے۔کسی صحیح حدیث سے حضور کا یا آپ کے صحابہ کا ایسا کرنا ثابت نہیں۔تاہم اگر کوئی چاہیے تو ان مواقع پر ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگ سکتا ہے یعنی کبھی کبھار ایسا کہ نا جائز ہے۔اس کے برعکس ان موقعوں پر ہاتھ اٹھانے کو ضروری سمجھنا اور جو ہاتھ نہیں اٹھاتے اُن پر اعتراض کرنا بے معنی ہے۔کیونکہ عبادت اور دعائیں جس طریق کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بالالتزام اور ضروری سمجھ کر نہیں کیا اُسے ضروری سمجھنا اور بالالتزام کرنا بدعت ہے۔بدر یکم مئی سنه