فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 113 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 113

میں ہی زیادہ موثر طریق اور محمدگی کے ساتھ دعا کر سکتا ہے۔جس زبان میں انسان سوچتا اور غور کرتا ہے اس میں اسے پوری مہارت ہوتی ہے اس لئے وہ صحیح رنگ میں اسی زبان میں اپنے دلی جذبات اور اندرونی کیفیات کا اظہار کر سکتا ہے۔اگر وہ کسی ایسی زبان میں دعا کرے گا جس پر اسے پورہ سے طور پر تصرف حاصل نہیں تو وہ اپنے جذبات کا پورے طور پر اظہارہ نہیں کر سکے گا۔پس جہاں تک انفرادی طور پر خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا سوال ہے اپنی زبان میں دعا مانگنا ایک ضروری چیز ہے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ایسی دعائیں بلند آواز سے کی جائیں یا اگر کوئی شخص امام ہو تو وہ اُردو یا کسی اور زبان میں اونچی آواز سے دعائیں مانگنے لگ جائے وہ اپنے دلی میں تو ایسی دعائیں مانگ سکتا ہے اور اسے ضرور مانگنی چاہئیں۔مگر بلند آواز سے بالخصوص ایسی حالت میں جب کوئی شخص امام ہو صرف ایسی دعائیں ہی مانگنی چاہئیں جو ادعیہ ماثورہ میں شامل ہوں اور جن کا قرآن وحدیث میں ذکر آتا ہو۔اس میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ اگر اپنی زبان میں دعا کی جائے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ انسان صحیح طور پر شریعیت کے تقاضے کو پورا کر سکے۔مثلاً دعا کرتے وقت بعض دفعہ انسان خدا تعالیٰ کو اس کی صفات یاد دلاتا ہے۔بعض دفعہ خُدا کے بندے کے ساتھ جو تعلقات ہیں ان کا واسطہ دیتا ہے " نے سوال:۔ایک دوست روزانہ مغرب کی نماز میں رکوع کے بعد النزانا دکھا کر تے ہیں۔کیا یہ طریق درست ہے جواب : - التزام اور تہد کے ساتھ روزانہ آخری رکعت کے رکوع کے بعد کھڑے کھڑے لمبی دعا کرنا مناسب نہیں بلکہ کبھی کبھی ترک بھی کر دینا چاہیئے۔تاکہ اسے رواج نہ بنا لیا جائے۔یا ناواقف اسے نماز کا حصہ ہی نہ سمجھ لیں۔یہی طریق حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا تھا اور ان کے خلفاء کا۔یعنی آپ دعا کر بھی لیا کرتے تھے اور بعض اوقات اسے ترک بھی کر دیتے تھے بالعموم اس طرح سے دعا کر نے کا زیادہ اہتمام ان دنوں میں کیا جاتا جن دنوں کوئی خاص جماعتی ہم یا جماعتی پریشانی در پیش ہوتی۔تاہم ان دنوں میں بھی بعض اوقات اسے ترک کر دیا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔له الفضل ۱۸ جون شام