فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 106
1۔4 غرض جہاں تک جواز کا تعلق ہے دونوں صورتیں جائز ہیں۔لیکن کثرت عمل کے لحاظ سے عوام کے لئے چار پڑھنے کو ترجیح حاصل ہے۔سوال : اگر فجرکی نماز رہ جائے تو یہ نماز قضاء کرتے وقت کیا سنتیں بھی پڑھنی چاہئیں یا نہیں۔جواہے :۔جب نماز فجر کی قضاء کرے تو ساتھ سنتیں بھی پڑھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا یہی طریق عمل تھا آپ ان سنتوں کو ترک نہیں کرتے تھے۔فجر کی سنتوں و فرضوں کے درمیان نوافل ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ عمار فجر کی اذان کے بعد دوگانہ فرض سے پہلے اگر کوئی شخص نوافل ادا کر سے تو جائز ہے یا نہیں ؟ فرمایا : " نماز فجر کی اذان کے بعد سورج نکلنے تک دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض کے سوا اور کوئی نمازہ نہیں ہے " لے جواب :- سوال : چھوڑی ہوئی سنتیں جماعت کے بعد کس ترتیب سے ادا کی جائیں؟ - پہلے مقا بعد کی سنتیں پڑھے پھر اس کے بعد فوت شدہ سنتیں قضاء کر ہے۔سوال : - مسجد میں ہوتے ہوئے جب تک اذان نہ ہو جائے سنت ادا کرنی چاہیے یا نہیں ؟ اگر گھر میں پڑھ آئے تو کیا یہ جائز ہے ؟ جوا ہے :۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ وقت سے پہلے سنتیں ادانہ کی جائیں یہ ضروری نہیں کہ جب تک اذان نہ ہو جائے مسجد میں سنتیں ادا نہ کی جائیں۔جس مسجد میں نماز با جماعت ہوتی ہے وہاں بھی اذان سے پہلے سنتیں ادا کی جا سکتی ہیں اس میں کوئی شرعی روک نہیں۔کسی حدیث میں ایسی ممانعت نظر سے نہیں گزری۔گھر میں سنتیں ادا کر کے مسجد میں آنا زیادہ بہتر اور موجب ثواب ہے۔فرض نماز سے پہلے یا بعد نوافل شریعیت میں نقل نماز سے مراد ایسی نماز ہے جو اپنی مرضی پر منحصر ہو۔کوئی چاہے تو پڑھے بدر به رفروری شار