فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 105
1-0 کے پیش نظر فرمایا۔کہ کہیں لوگ اسے سنتِ مؤکدہ نہ بنا لیں۔عشاء سے قبل چار رکعت پڑھنے کی روایت نسبتاً کمزور ہے تاہم روایت موجود ہے اور وہ یہ ہے :- نقل فى الاختيار عن عائشة رضى الله عنها انه عليه الصلوة والسلام كان يصلى قبل العشاء اربعا ثم يضطجع له یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے چار رکعت پڑھتے اور پھر کچھ دیر کے لئے لیٹ جایا کرتھے۔اس کے بعد مسجد میں عشاء کی نماز پڑھانے تشریف لے جاتے۔نوافل کے سلسلہ میں اصل حکم یہ ہے کہ اوقات منوعہ کے سوا باقی اوقات میں انسان جب چاہے نفل پڑھ سکتا ہے۔اس میں کوئی روک نہیں۔پس اگر مندرجہ بالا روایات نہ بھی ہوں تب بھی یہ جائز ہے کہ کوئی شخص عصر یا عشاء سے پہلے دو یا چار رکعت نماز ھے یعنی یہ نوافل نہ تو ضروری ہیں اور نہ ہی منع۔ا وال :۔ظہر کی نماز سے قبل دو رکعت سنت ادا کرنی چاہئیے یا چار رکعت جواب:- دونوں طرح جائز ہے۔چاہے تو نماز ظہر کے فرضوں سے پہلے صرف دو رکعت سنت ادا کر سے اور چاہے تو چار رکوت لیکن ترجیح چار رکعت والی روایت کو ہے کیونکہ امت کی اکثریت نے عملاً چار رکعت سنت کی پابندی کی ہے۔چنانچہ حضرت امام ابو حنیفہ حضرت امام مالک اور ان کے متبعین کا یہی مسلک ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دیگر دینی مشاغل کے ہجوم کی وجہ سے اگر چہ بالعموم دورکعت ادا فرماتے تھے لیکن آپ کے خلفاء اور جماعت احمدیہ کی اکثریت کا چار رکعت سنت پر ہی عمل ہے باقی احادیث کے اس اختلاف کو یوں حل کیا گیا ہے۔کہ اکثر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت ہی پڑھتے تھے لیکن کبھی کبھی دور کوت بھی پڑھ لیتے تھے۔چنانچہ امام ابوجعفر طبری لکھتے ہیں :۔الاربع كانت في كثير من احواله والركعتان في قليلها - له ایک تاویل یہ کی گئی ہے کہ حضور اگر یہ نماز گھر پڑھتے تو چار رکعت ادا فرماتے اور اگر باہر مسجد میں پڑھتے تو دو رکعت۔۵۴۵۳ ١ بحر الرائق جلد به : : - نیل الاوطار ها : ص