فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 5 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 5

اسلامی شریعیت اور عبادت قرآن کریم کوئی انوکھی تعلیم پیش نہیں کرتا بلکہ وہ اس اندرونی شریعیت کو یاد دلاتا ہے جواللہ تعالی نے انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی صورت میں ودیعت کر رکھی ہے۔اس شریعت کے ذریعہ انسان کے اندرونی قولی خصوصا اس کی قوت شہوانیہ اور قوت غضبیہ کی تہذیب و تعدیل ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں مختلف اخلاق پیدا ہوتے ہیں مثلاً علم ہے ایشیا ر ہے صبر ہے قناعت ہے سخاوت ہے شجاعت ہے اطاعت ہے اخلاص ہے صدق ہے دیانت ہے محنت ہے اور عمل صالح کی استعداد ہے۔غرض جو فطرت قدرت نے باطن میں رکھی تھی۔قرآن نے اُسے یاد دلایا ہے جیسے فرمایا :- ا " في كتاب مكنون" له یعنی صحیفہ فطرت میں جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا اس کو اس وحی نے سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا اور اس کی پوری پوری وضاحت کر دی۔یہ ہے اسلامی شریعت اور قرآن کریم کی علی تعلیم کا تصور جس کی تشریح و تفصیل زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے اور اسی کا ایک اہم حصہ عبادت سے متعلق ہے جو اس وقت ہمارے زیر بحث عبادتے اور اُسے کے معنے گفت کے لحاظ سے عبادت کے معنے تابع بن کہ اعلیٰ ہستی کے ساتھ ساتھ چلنے ، اسے تعلق کے اظہار میں سرگرمی دکھانے ، اس کا نمونہ بن جانے ، اس کی اطاعت میں اپنے وجود کو لگا دینے اس کی مہربانیوں کے گن گانے اور اس کے احسانوں کا شکریہ ادا کرنے کے ہیں ظاہر ہے کہ عجز و نیاز خضوع و خشوع ، تذلل و انکسار، فروشتنی و عاجزی ، فدائیت و ممنونیت ان معنوں کا لازمی نتیجہ ہے۔فدائیت کے اس مفہوم کو ایک شاعر نے یوں ادا کیا ہے :- " تمہار سے حسین ازلی ، تمہاری جود و سخا اور تمہار سے انعام واکرام نے میری تین چیزیں جیت لی ہیں یعنی میرا دل، میری زبان اور میرا جسم ، دل تمہاری عظمت کا اعتراف کرتا ہے الواقعہ : 49 :