فضائل القرآن — Page 50
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 50 50 جائے۔لازما ڈاکٹر کی بات کی طرف ہی توجہ کی جائے گی۔ہاں جسے کسی دوائی سے فائدہ نہ ہوتا ہووہ کسی عورت کی بتائی ہوئی دوائی بھی استعمال کرے گا۔کیونکہ مرتا کیا نہ کرتا کے مطابق وہ یہ کہے گا کہ چلو اس کی دوائی بھی آزمالو۔غرض اتھارٹی اپنی ذات میں بھی فضیلت رکھتی ہے۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اتھارٹی کے لحاظ سے غالب گمان ہوتا ہے کہ اس کی بات ٹھیک ہوگی۔اس کی طرف پہلے کیوں نہ توجہ کریں۔بہر حال جس چیز کی فضیلت مقام اور منبع کے لحاظ سے ثابت ہو جائے اس کی طرف دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ کی جاتی ہے اور اسے فضیلت دے دی جاتی ہے۔لیکن اگر منبع ایسا ہو کہ جس سے غلطی کا امکان ہی نہ ہو تو پھر تو سُبحان الله ! اب قرآن کریم کو ہم اس اصل کے ماتحت دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے جو سب خوبیوں کا جامع ہے اور جب ہم یہ دعویٰ پڑھتے ہیں تو ہمارا دل کہتا ہے کہ اگر یہ للہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے تو پھر یقینا انسانوں کے کلاموں سے افضل ہوگا اور ان کلاموں کو ہم اس کے مقابلہ میں قطعی طور پڑھکرا دیں گے۔میں پہلے یہ دعوئی بیان کر آیا ہوں کہ قرآن خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور وہ دعوی یہ ہے کہ الله نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُتَشَابِهًا مَعَانِي اب اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو قرآن کریم کو تمام انسانی کلاموں پر منبع کے لحاظ سے فضیلت حاصل ہو گئی۔قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کے تین دلائل لیکن ظاہر ہے کہ صرف دعوئی کافی نہیں ہوسکتا۔دعوئی کے لئے دلیل بھی چاہئے جس سے ثابت ہو کہ فی الواقعہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اس کے لئے قرآن کریم یہ دلیل دیتا ہے کہ آأَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيْنَةٍ مِنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَبُ مُوسَى اِمَامًا وَرَحْمَةً أُولبِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرُ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ، إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبَّكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ اس آیت میں قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کی تین دلیلیں دی گئی ہیں۔پہلی