فضائل القرآن — Page 388
فصائل القرآن نمبر۔۔۔388 اختلاف پیدا ہوتا ہے یا استعارہ تسلیم کر کے۔جو لوگ استعارہ نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایسا ہی لفظ ہے جیسے شیطان کا لفظ آتا ہے۔جس طرح شیطان سے مراد ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے علیحدہ ہے اسی طرح جن بھی ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے الگ ہے حالانکہ وَإِذَا خَلَوْا إلى شَيْطِينِهِمْ I میں مفترین بالاتفاق لکھتے ہیں کہ اس جگہ شیاطین سے مراد یہودی اور اُن کے بڑے بڑے سردار ہیں۔پس اگر انسان شیطان بن سکتا ہے تو انسان جن کیوں نہیں بن سکتا ؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَذلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا شَيْطِيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنَ يُوحَى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۲۲ یعنی ہم نے ہر نبی کے دشمن بنائے ہیں شیطان آدمیوں میں سے بھی اور جنوں میں سے بھی جو لوگوں کو مخالفت پر اُکساتے اور انہیں نبی اور اُس کی جماعت کے خلاف بر انگیختہ کرتے رہتے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسان بھی شیطان ہوتے ہیں۔پس اگر شیاطین الانس ہو سکتے ہیں تو جن الانس کیوں نہیں ہو سکتے۔یعنی جس طرح انسانوں میں سے شیطان کہلانے والے پیدا ہو سکتے ہیں اسی طرح ان میں سے جن کہلانے والے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔پس قرآن سے ہی پتہ لگ گیا کہ صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں ہی جن نہیں تھے بلکہ حضرت موسیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جن ایمان لائے تھے۔رسول کریم سالانیا اینم کی بعثت انسانوں کی طرف تھی نہ کہ جنوں کی طرف اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کن کی طرف ہوئی تھی ؟ اللہ تعالیٰ سورۃ نساء میں فرماتا ہے۔وَاَرْسَلْنَكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا سے یعنی ہم نے تجھے تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس آیت میں صاف طور پر بتایا ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آدمیوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے حالانکہ اگر آدمیوں کے علاوہ کوئی اور نرالی مخلوق بھی جسے جن کہتے ہیں آپ پر ایمان لائی تھی تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ أَرْسَلْنَكَ لِلنَّاسِ وَالْجِن مگر وہ یہ نہیں فرما تا بلکہ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے آدمیوں کے لئے بھیجا ہے۔پس جب آدمیوں کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے گئے تھے تو صاف پتہ لگ گیا کہ جہاں یہ ذکر ہے کہ جن آپ پر