فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 434

فضائل القرآن — Page 275

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 275 ایسا نہ تھا جو پہلے شرک میں مبتلا نہ تھا اور نزول قرآن کریم کے بعد اُس نے اپنے پہلو کو نہیں بدلا۔یہ ایک ایسی بدیہی بات ہے کہ عقلمند کے لئے صرف یہی افضلیت کا ثبوت کافی ہے۔غرض اس آیت میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے ذریعہ ہر مذہب و ملت اور ہر فلسفہ اور خیال کی غلطیاں نکالی گئی ہیں اور اس کے مقابل پر جو سچی تعلیم تھی وہ بتائی گئی ہے۔پھر فرماتا ہے کہ ایسا ہونا ضروری تھا۔یہ خیال درست نہیں کہ دوسروں کی غلطیاں نکالنے کی کیا ضرورت تھی اپنی تعلیم پیش کر دینا کافی تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی ضرورت تھی کیونکہ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نذيرا ہم نے قرآن ساری دنیا کے لئے بھیجا ہے۔نہ صرف یہود کے لئے نہ صرف نصاری کے لئے۔نہ صرف ہندوؤں کے لئے۔پھر نہ صرف اہل مذاہب کے لئے بلکہ فلسفہ والوں کے لئے بھی اور جب تک حجت تمام نہ ہونذیر نہیں ہو سکتا۔پس ضروری تھا کہ تمام ادیان باطلہ اور فلسفہ باطل اور اوہام باطلہ اور وساوس کا اِس میں ازالہ کیا جاتا۔ورنہ سب دنیا کی طرف اس کا بھیجا جانا جائز نہ تھا۔اب دیکھو یہ کتنا بڑا دعویٰ ہے جو قرآن نے کیا۔اس کے مقابلہ میں اور کوئی کتاب ایسا دعویٰ پیش نہیں کرسکتی بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی اور ایسا دعوی کر ہی نہیں سکتا جب تک یہ چھ خوبیاں اُس میں نہ ہوں۔اول جب تک سب کتب کا اُسے علم نہ ہو۔جب وید اور ژند و اوستا وغیرہ کا کسی کو پتہ ہی نہ ہو اُس وقت تک کوئی اُن کی غلطیاں کیونکر نکالے گا۔اسی طرح اگر فلسفیوں کے خیالات معلوم نہ ہوں تو اُن کا رڈ کس طرح کرے گا۔یہ دعویٰ وہی کر سکتا ہے جس کے پاس ساری دنیا کے مذاہب اور سارے فلسفیوں کی کتب کی لائبریری ہو ایسی لائبریری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو نہ تھی بلکہ بیبیوں مذاہب کا آپ کو علم بھی نہ تھا۔دوسری خوبی اس میں یہ ہونی چاہئے کہ اس کی نظر ایسی ہو کہ اُسے غلطیاں نظر بھی آجائیں اور ایسی واقفیت ہو جو ساری کتابوں کے مضامین پر حاوی ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعویٰ نہ کر سکتے تھے کیونکہ آپ کے پاس مذاہب عالم کی کتابیں ہی موجود نہ تھیں اُن کے پڑھنے پڑھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تیسری خوبی یہ ہونی چاہئے کہ سب فلسفوں کا اُسے علم ہو۔چوتھی یہ کہ سب قسم کے اوہام اور وساوس کا بھی علم ہو کیونکہ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ قرآن کریم وسوسوں کو بھی دُور کرتا ہے اور یہ کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے کہ انسانوں کے وساوس کا پتہ لگا سکے۔یہ دعوی کوئی انسان کر ہی نہیں سکتا کہ میں انسانوں کے وساوس دُور کر سکتا