فضائل القرآن — Page 218
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 218 یعنی ظالم لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ایک مسحور کی اتباع کر رہے ہیں۔کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کی عقل ماری گئی ہے۔اس آیت سے پہلے ملائکہ کے نزول کے متعلق معترضین کا مطالبہ ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور خزانے عطا کرتے ہیں ( ملائکہ سے الہام اور خزانے سے معارف قرآن مراد تھے ) تو مخالفین نے کہا کہ دیکھو اسے جو ملائکہ نظر آتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مسحور ہے۔فرشتے ہمیں نہیں نظر آتے۔خزانے ہمیں نہیں دکھائی دیتے مگر یہ کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور خزانے مل رہے ہیں ، کہاں ملے ہیں؟ یہ سحر کا ہی اثر ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے۔اسی طرح اور بہت سے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَبِكَةُ أَوْ نَرَى رَبَّنَاء لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوا كَبِيرًا - يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلبِكَةَ لَا بُشْرَى يَوْمَةٍ لِلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا وَقَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَه هَبَاءَ مَنْشُورًا أَصْحَبُ الْجَنَّةِ يَوْمَةٍ خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا وَيَوْمَ تشقَّقُ السَّمَاءِ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلبِكَةُ تَنْزِيلًا الْمُلْكُ يَوْمَينِ الْحَقُ لِلرَّحْمنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَفِرِينَ عَسِيرًا ۲۵ b یعنی یہ نادان کہتے ہیں کہ یہ مسحور ہے اور ثبوت یہ پیش کرتے ہیں کہ ہمیں کیوں فرشتے نظر نہیں آتے۔ہمیں کیوں خزانے دکھائی نہیں دیتے۔لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلئِكَةُ ہم پر وہ فرشتے کیوں نہیں اُترتے جن کے متعلق یہ کہتا ہے کہ مجھ پر اُترتے ہیں۔آؤندی ربنا یا یہ کہتا ہے کہ میں اپنے رب کو دیکھتا ہوں۔ہمیں وہ کیوں نظر نہیں آتا۔یہ جاہل خیال کرتے ہیں کہ ہمیں چونکہ یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے یہ جو اُن کے دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو مسحور ہے مگر یہ اپنے نفسوں کو نہیں دیکھتے۔کیا ایسے گندوں کو خدا نظر آسکتا ہے۔انہوں نے بڑی سرکشی سے کام لیا ہے۔يَوْمَ يَرَوْنَ المليكة لا بُشرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ۔ان کو بھی فرشتے نظر آئیں گے مگر اور طرح۔جب انہیں فرشتے نظر آئیں گے تو یہ کانوں کو ہاتھ لگا ئیں گے اور کہیں گے کہ کاش یہ ہمیں دکھائی نہ دیتے۔