فضائل القرآن — Page 161
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 161 کا اصل ذریعہ یہ ہے کہ انسان سب دنیا سے الگ ہو کر عبادت کرے۔منوجی نے جن کی تعلیم ہندو مانتے ہیں یہ بھی بتایا ہے کہ پچیس سال تک کنوارا رہنا چاہئے پھر پچیس سال تک شادی شدہ رہے لیکن وید اس بارہ میں بالکل خاموش ہیں جو ہندوؤں کی اصل مقدس کتاب ہے۔شادی کی ضرورت، اس کی حقیقت اور اس کے نظام وغیرہ کے متعلق منو وغیرہ بھی خاموش ہیں۔بدھ مذہب نے شادی نہ کرنے کو افضل قرار دیا ہے کیونکہ پاکیزہ اور اعلیٰ خادمانِ مذہب کے لئے شادی کو منع کیا۔ہے خواہ عورت ہو خواہ مرد۔یہی جین مذہب کی تعلیم ہے اب اسلام کو دیکھو تو معلوم ہوتا ہے کہ اس تعلق کو اس نے کس طرح نہایت اعلی مسئلہ بنادیا ہے اور اسے دین کا جزو اور روحانی ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔اسلام شادی کو ضروری قرار دیتا ہے اس بارہ میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرد اور عورت کا تعلق ہونا چاہئے اور کیا انہیں اکٹھے زندگی بسر کرنی چاہئے؟ قرآن کریم اس کے متعلق کہتا ہے کہ شادی ضروری ہے۔نہ صرف یہ کہ ضروری ہے بلکہ جو بیوہ ہوں ان کی بھی شادی کر دینی چاہئے اور شادی کرنے کی دلیل یہ دیتا ہے کہ يَاتِهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا یعنی اے انسانو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی قسم کا جوڑا بنا یا۔اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسانیت ایک جو ہر ہے۔یہ کہنا کہ انسانیت مرد ہے یا یہ کہنا کہ انسانیت عورت ہے غلط ہے۔انسانیت ایک علیحدہ چیز ہے۔وہ نفسِ واحدہ ہے اس کے دوٹکڑے کئے گئے ہیں۔آدھے کا نام مرد اور آدھے کا نام عورت۔جب یہ دونوں ایک ہی چیز کے دوٹکڑے ہیں تو جب تک یہ دونوں نہ ملیں گے اس وقت تک وہ چیز مکمل نہیں ہوگی۔وہ تبھی کامل ہوگی جب اس کے دونوں ٹکڑے جوڑ دیئے جائیں گے۔یہ اسلام نے عورت اور مرد کے تعلق کا اصل الاصول بتایا ہے کہ مرد اور عورت علیحدہ علیحدہ انسانیت کے جو ہر کے دوٹکڑے ہیں۔اگر انسانیت کو مکمل کرنا چاہتے ہو تو ان دونوں ٹکڑوں کو ملانا