فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 434

فضائل القرآن — Page 160

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ وہ قبول کرے ، 160 گویا حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ مرد عورت کا تعلق ادنی درجہ کے لوگوں کا کام ہے اگر کوئی اعلیٰ درجہ کا انسان بنا چا ہے اور آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا چاہے تو اسے چاہئے کہ خوجہ بن جائے۔مطلب یہ کہ اصل نیکی شادی نہ کرنے میں ہے۔ہاں جو برداشت نہ کر سکے وہ شادی کرلے۔اسی طرح 1 کرنتھیوں۔باب سے میں لکھا ہے:- مرد کے لئے اچھا ہے کہ عورت کو نہ چھوئے لیکن حرام کاریوں کے اندیشے سے ہرمرد اپنی بیوی اور ہر عورت اپنا شوہر رکھے۔میں بے بیاہوں اور بیوہ عورتوں کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ ان کے لئے ایسا ہی رہنا اچھا ہے جیسے میں ہوں لیکن اگر ضبط نہ کر سکیں تو بیاہ کر لیں۔۳۸۰ گویا عورت مرد اگر بن بیا ہے رہیں تو پسندیدہ بات ہے۔یہود میں یوں تو نہیں لکھا لیکن مرد اور عورت کے تعلقات کے متعلق کوئی صاف حکم بھی نہیں۔تو رات میں صرف یہ لکھا ہے کہ:- ”خداوند نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی اور اس کے بدلے گوشت بھر دیا اور خداوند خدا اس پہلی سے جو اس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر آدم کے پاس لایا اور آدم نے کہا کہ اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔اس سبب سے وہ ناری کہلائے گی کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی۔اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی جو رو سے ملا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے۔۳۹ ان الفاظ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ عورت چونکہ مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔اس وجہ سے وہ اس سے مل کر ایک بدن ہو جائے گا اور مرد کو طبعا عورت کی طرف رغبت رہے گی۔یہ کہ ان کامل کر رہنا اچھا ہوگا یا نہیں اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا صرف فطری تعلق کو لیا گیا ہے۔ہندو مذہب نے شادی کی ضرورت پر کچھ نہیں لکھا۔صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ شادی ان کے دیوتا بھی کرتے تھے پھر بندے کیوں نہ کریں گے۔مگر ساتھ ہی بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ نجات