فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 434

فضائل القرآن — Page 152

فصائل القرآن نمبر۔۔۔152 اپنے عزیزوں سمیت بیٹھ کر ان کے پھل کھاتے ہو۔کبھی تمہیں یہ بھی خیال آیا کہ باغ کی دیوار کے ساتھ گذرنے والے غریب کا بھی پتہ لیں کہ اس کے دل میں کیا گذرتا ہے۔كُلُوا مِنْ ثَمَرِةَ إِذَا اعمر جب پھل پکیں تو خوب کھاؤ مگر ایک بات ضرور مد نظر رکھو اور وہ یہ کہ وَأتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِہ جب پھل پک جائیں تو غریبوں کو بھی دو تا کہ وہ بھی دنیا کی نعمتوں سے حصہ پائیں۔یہ نہیں فرمایا کہ پھل بیچ کر کچھ روپے غریبوں کو دے دو کہ ان سے دال روٹی کھا لیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ وَلا تُسْرِفُوا ہاں اسراف نہ کرو یہ نہ ہو کہ روز غریبوں کو سنگترے وغیرہ تو کھلاتے رہومگر ان کے کپڑوں اور کھانے پینے کا خیال نہ رکھو ہر ایک امر کی ایک حد ہونی چاہئے۔پھر بتایا کہ جو کچھ دو، حلال مال سے دو۔فرمایای يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُم سے اے ایمان دارو! جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے دل میں غریبوں کی مدد کے لئے جوش اُٹھتا ہے تو ڈاکے مارنا شروع کر دیتے ہیں۔وہ لوگ جو اخلاقی علوم سے واقف نہیں ہوتے ، وہ کہتے ہیں فلاں ڈا کو بڑا اچھا آدمی ہے کیونکہ وہ غریبوں کی خوب مدد کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ غریبوں پر رحم کرنے کا طریق نہیں بلکہ اصل طریق یہ ہے کہ أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ غریبوں کی ہمدردی کے یہ معنے نہیں کہ ڈاکے ڈال کر اور دوسروں کا مال چھین کر ان کو دے دو بلکہ تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اس قدر مال جس قدر قرآن کریم نے جائز رکھا ہے دید و اور باقی کام خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔کسی کی خاطر نا جائز فعل کرنا درست نہیں۔لوگوں کا مال لوٹ کر غرباء کو دینا تو حلوائی کی دُکان اور دادا جی کی فاتحہ کا مصداق بننا ہے۔اگر تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تھوڑا مال ہے مگر غریب بہت ہیں تو اس کی ذمہ داری تم پر نہیں۔تم جتنا دے سکتے ہو دے دو باقی خدا تعالیٰ کے سپر د کرو۔ایک تاریخی لطیفہ ہے۔لکھا ہے کہ صلیبی جنگوں کے موقع پر ایک شخص جو فوج میں ملازم تھا بادشاہ کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا۔میری غیرت یہ برداشت نہیں کرتی کہ میں بیت المال سے تنخواہ لوں۔میں آئندہ تنخواہ نہیں لونگا۔اسے کہا گیا کہ پھر تم کس طرح گزارہ کرو گے۔اس نے کہا میری ایک لونڈی ہے جو جادو ٹونے کرنا جانتی ہے۔میں اس کی کمائی سے گزارہ کرلوں گا۔گویا اس نے