فضائل القرآن — Page 92
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 92 86 وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الروح کی لطیف تفسیر خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمُ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا وَلَبِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا إِلَّا رَحْمَةٌ مِنْ رَّبِّكَ إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًا - قُل لَّبِنِ اجْتَمَعَتِ ط الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا وَلَقَدْ صَرَفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ فَأَنِّي أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا - ٢٨ ان آیات سے پہلے قرآن کریم کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے۔وَيَسْتَلُونَگ عَنِ الرُّوحِ کچھ لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ کیوں نہ یہ تسلیم کیا جائے کہ روح اپنے اندر یہ ذاتی قابلیت رکھتی ہے کہ اس سے اعلیٰ درجہ کا کلام نکلنے لگ جاتا ہے۔یہاں سوال نقل نہیں کیا گیا۔اس لئے اس موقع کے لحاظ سے جتنے سوال کے پہلو نکل سکتے ہوں وہ سب جائز ہونگے۔ایک سوال یہ ہوسکتا ہے کہ روح کو کس طرح پیدا کیا گیا ہے دوسرا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ روح میں کیا کیا طاقتیں رکھی گئی ہیں۔تیسرا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ روح کا انجام کیا ہوگا ؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا - روح مادیات سے بالا ہے اس لئے یہ تمہارے تصرف میں نہیں آسکتی۔اس کی پیدائش اس کا قیام اور اس کا انجام سب اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہے کیونکہ وہ خود روح کو پیدا کرنے والا ہے۔اس میں ان لوگوں کا رد کیا گیا ہے جو کہتے ہیں کہ روح آپ ہی کمال حاصل کر سکتی ہے۔فرمایا جب تک خدا کا کلام روح کو حاصل نہ ہو وہ کوئی کمال ظاہر نہیں کر سکتی۔پھر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ روح فنا کیوں نہیں ہوتی ؟ ان کے متعلق فرمایا کہ زندہ رکھنے والا جو موجود ہے تو فنا کیوں ہو۔جیسے آگ جلانے والا جب تک آگ میں لکڑیاں ڈالتا جائے گا وہ نہیں مجھے گی۔غرض نہ یہ سوال درست ہے کہ روح ہمیشہ کس طرح رہے گی اور نہ یہ کہ اگر زندہ رہے گی تو حادث نہیں ہے کیونکہ اس کی زندگی خدائی اذن سے ہے نہ کہ اپنی ذاتی