فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 434

فضائل القرآن — Page 363

فصائل القرآن نمبر۔۔۔363 زمانہ کی بدیاں آج پیدا ہوگئی ہیں تو کیا ان بدیوں کو دور کرنے کے لئے مصلح نہیں آنا چاہئے تھا؟ آخر یہ آیت اسی لئے قرآن میں آئی ہے تا اللہ تعالیٰ بتائے کہ ایسے گندے لوگ چونکہ دنیا میں موجود ہیں اس لئے ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔پھر اگر ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے قرآن کی ضرورت تھی ،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت تھی تو جب کہ موجودہ زمانہ میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ اس آیت کا مضمون لوگوں کے عمل سے نظر آتا ہے تو جس اصلاح کا سامان خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کیا تھا وہ بھی ہونا چاہئے۔اس پر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔تو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم میں ایسے وسیع مطالب بیان کئے گئے ہیں کہ اگر انسان غور کرے تو وہ خزانہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ہاں جو لوگ اسے بند کتاب سمجھ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس میں سے نئے معارف نہیں نکل سکتے اُن پر واقعہ میں کوئی بات نہیں کھلتی۔جس طرح اگر تم کسی جنگل میں سے گزر رہے ہو تو تمہارے سامنے ہزاروں درخت آئیں گے مگر تم کسی کو غور سے نہیں دیکھو گے لیکن اگر محکمہ جنگلات کا افسر معائنہ کرنے کے لئے آجائے تو وہ بیبیوں نئی باتیں معلوم کر لیتا ہے۔اسی طرح جو شخص اس نیت سے قرآن پڑھتا ہے کہ یہ غیر محدود خزانہ ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا لیتا ہے اور جو اس نیت سے نہیں پڑھتا وہ محروم رہتا ہے۔ہر زبان میں تشبیہہ اور استعارہ کا استعمال الہامی کتابوں کے مطالب کے متعلق دوسری مشکل جیسا کہ میں بتا چکا ہوں تشبیہہ اور استعارہ کی ہے۔دنیا کی ہر زبان میں تشبیہ اور تمثیل کا استعمال موجود ہے۔ہر اعلی علمی کتاب میں تشبیہات و تمثیلات بیان ہوتی ہیں۔ہر ملک میں استعاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں محاورہ ہے کہ آنکھ بیٹھ گئی مگر کوئی نہیں کہتا کہ کیا آنکھ کی بھی ٹانگیں ہیں؟ یا وہ بیٹھی ہے تو کس پلنگ اور گری پر کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ آنکھ بیٹھنے کے معنی یہ ہیں کہ آنکھ ضائع ہوگئی اور پھوٹ گئی۔اسی طرح اور بیسیوں نہیں سینکڑوں محاورے زبانِ اُردو میں استعمال کئے جاتے ہیں اور یہ استعارے زبان کے کمال پر دلالت کرتے ہیں۔