فضائل القرآن — Page 123
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 123 قریب گذر چکے ہیں مگر انہوں نے کوئی حکومت نہ دلائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حکومت اس لئے نہ ملی کہ حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام اور کئی اور انبیاء کے زمانہ میں بھی حکومت نہیں ملی تھی۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد تین سو سال تک ان کے ماننے والوں میں حکومت نہیں آئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شرعی نبی ہوتے ہیں اور ایک غیر شرعی۔شرعی نبی نے چونکہ شریعت کے احکام پر جو اسے دیئے جاتے ہیں عمل کرانا ہوتا ہے اس لئے اس کی زندگی میں ہی خدا تعالیٰ حکومت دے دیتا ہے۔اور غیر شرعی نبی نے چونکہ کسی ایسے حکم پر عمل نہیں کرانا ہوتا جس پر پہلے عمل نہ ہو چکا ہو اس لئے اس کے زمانہ میں خدا تعالیٰ قلوب کی فتح رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے یہی فتح عطا کی ہے۔علی اور خالد کے مثیل چوتھا سوال یہ کیا گیا ہے کہ چالیس پچاس سال کے عرصہ میں احمدیت کیوں ایک بھی علی یا خالد پیدا نہ کر سکی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ احمد یہ جماعت حضرت عیسی علیہ السلام کی جماعت کی مثیل ہے۔اور یہ وہی کام کرنے آئی ہے جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی امت نے کیا۔اس لئے اس میں خالد اور علی کی مثال تلاش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ وہ شرعی نبی کے ماننے والے تھے۔شریعت کے مغز کو جاری کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے۔اور اس کے لئے نفس کی قربانی کی ضرورت تھی جس میں جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہوگئی ہے۔پس ہم سے اگر کوئی مطالبہ ہوسکتا ہے تو یہ کہ چالیس سال میں کتنے پطرس پیدا کئے؟ اس کے جواب میں ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ پطرس کیا ان سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں پیدا ہوئے۔پطرس تو جب پکڑا گیا اس نے صاف کہہ دیا کہ میں مسیح کو جانتا بھی نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک مانے والا جب پکڑا گیا تو اس نے پتھروں کی بوچھاڑ کے نیچے جان دے دی لیکن ایمان ہاتھ سے نہ دیا۔پھر ہم تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں سے ایسے