فضائل القرآن — Page 84
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 84 پنجم :۔مذکورہ بالا امور میں نہ صرف علمی طور پر روشنی بخشا بلکہ عمل بھی خدا تعالیٰ سے وصال کرانا اور روحانی طاقتوں کو مکمل کرانا اور حیات اُخروی کے فوائد سے بہرہ ور کرانا۔یہ ضرورتیں جو اسلام نے بیان کی ہیں باقی مذاہب بھی اس امر میں اس سے متفق ہیں گو اس مقصد کے پورا کرنے میں قرآن کریم منفرد ہے۔کوئی مذہبی کتاب اس بارہ میں اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔تو رات کو شروع سے آخر تک پڑھ جاؤ، انجیل کو پڑھ جاؤ، ویدکو پڑھ جاؤ بس یہ معلوم ہوگا کہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب دنیا مانتی ہے اور اس کی ذات میں کسی شک کی گنجائش نہیں مگر اس کا ثبوت وہ کوئی نہیں دیتیں۔اسی طرح اس کی صفات کے متعلق اس قدر قلیل روشنی ڈالی گئی ہے کہ انسانی نفس اس سے قطعا تسلی نہیں پاسکتا۔پس ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا علم دیا جائے اور پھر اس کے دلائل دیئے جائیں۔زیادہ سے زیادہ دوسری کتب نے کوئی ثبوت دیا ہے تو معجزات سے دیا ہے۔بیشک اس سے اللہ تعالیٰ کا وجود تو ثابت ہو جاتا ہے مگر اس کی ہر صفت ثابت نہیں ہوتی۔اگر کوئی کتاب خدا تعالیٰ کو غفور کہتی ہے تو ضروری ہے کہ وہ خدا کے غفور ہونے کا ثبوت بھی پیش کرے۔اگر رحیم قرار دیتی ہے تو اس بات کا ثبوت دے کہ وہ رحیم ہے۔غرض باقی مذاہب نے اس اصل الاصول کو جس پر مذہب کی بنیاد ہے بالکل مہمل چھوڑ دیا ہے اس کے مقابل پر قرآن کریم کو دیکھو۔وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے وجود کو پیش کرتا ہے بلکہ اس کے ثبوت بھی دیتا ہے۔اور نہ صرف اس کا ثبوت دیتا ہے بلکہ اس کی سب صفات کا ثبوت دیتا ہے۔اور اس طرح وہ ایک نیا اصل پیش کرتا ہے۔جو یہ ہے کہ جس قدر صفات الہیہ بندہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں ان کا الگ ثبوت ضروری ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا وجود تو ثابت ہو گا مگر اس کی صفات کا ثبوت نہ ہوگا۔بندوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی صفات الہیہ کا ثبوت میں اس وقت اس کی ایک مثال دے دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لا إلهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَنىءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَنِي وَكِيلٌ لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سے یعنی یہ ہے تمہارا اللہ جو تمہارا رب بھی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہی ہر ایک چیز کا خالق ہے اس کی تم عبادت کرو۔وہ ہر چیز