فضائل القرآن — Page 74
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ تیری مخالف ہوگی تیرا رب تیرے ساتھ ہوگا۔مگر یہ بھی یا درکھنا کہ تیری آہستہ آہستہ ترقی ہوگی کیونکہ رب آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ ترقی دینے والے کو کہتے ہیں۔چوتھی بات یہ بیان کی کہ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اس میں ایک تو اس طرف توجہ دلائی کہ اے انسان! دیکھ تیری پیدائش کتنی ادنی ہے پھر تو خیال بھی کس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی کامیابی کے ذرائع خود معلوم کر لے گا۔دوسرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرف توجہ دلا دی کہ انسان کو علق سے پیدا کیا گیا ہے یعنی اس میں قدرتی طور پر تعلق باللہ کا مادہ رکھا گیا ہے اور یہ بات تمہاری معاون ہوگی۔پس تمہیں گھبرانا نہیں چاہئے اور مایوسی کو کبھی اپنے قریب بھی نہیں آنے دینا چاہئے۔غرض ایک چھوٹی سی آیت میں تاریخ علم کلام تبلیغ ، انسان کی پیدائش اور انسان کی مخفی طاقتوں کا ذکر کر دیا۔اور ابھی یہ باتیں ختم نہیں ہوئیں اور بھی کئی علوم کا اس میں ذکر ہے۔قرآن کریم کی منفی عبارت چہارم قرآن کریم کی عبارت مقفی ہوتی ہے۔قافیہ بندی کے ساتھ اگر مضمون خراب ہو جائے تو وہ منفی عبارت بری معلوم ہوتی ہے۔لیکن قرآن کریم کی عبارت با وجود مقفی ہونے کے ایسی ہے جس سے صرف مضمون کی عظمت ہی قائم نہیں ہوتی بلکہ نئے نئے معارف بھی ظاہر ہوتے ہیں۔اس کی مثال کے طور پر سورۃ جمعہ کو لے لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزيّيْهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔" دیکھو کس طرح ان آیات میں توازن کو قائم رکھا گیا ہے۔یہ ہے تو نشر مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اشعار ہیں۔مگر باوجود اس کے کوئی لفظ زائد نہیں۔شاعر تو مضمون کے لحاظ سے الفاظ کو آگے پیچھے 74