فضائل القرآن — Page 73
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ گی۔میں اس کے مزید ثبوت کے لئے پھر پہلی آیت کو ہی لے لیتا ہوں۔اقرأ باسم رنگ الَّذِی خَلَقَ کی لطیف تفسیر 73 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ إِقْرَا وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ - ان چند آیات میں پہلے تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ فرمایا اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ۔پڑھ اس کلام کو۔مگر جب پڑھنے لگو تو یہ کہہ لینا کہ میں اللہ کا نام لے کر اسے پڑھتا ہوں۔اس میں استثنا باب ۱۸ کی آیت ۱۹،۱۸ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ :- میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پاکروں گا۔اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا۔وہ سب ان سے کہے گا۔اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لونگا۔۳۳ پس باسم ربک میں موسی کی اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ کے مثیل موسی ہونے کا دعوی پیش کیا گیا ہے اور نبوت کے تسلسل کا ذکر کیا گیا ہے۔پھر اقرا میں تبلیغ کے واجب ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کئی کلام ایسے ہوتے ہیں جو خود پڑھنے والے کے لئے ہوتے ہیں، دوسروں کو سنانے کے لئے نہیں ہوتے مگر اس کلام کے متعلق فرمایا یہ ساری دنیا کے لئے ہے، جا اور اُسے سنا۔اس میں تبلیغ اسلام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔تیسری بات رنگ الَّذِی خَلَقَ میں یہ بتائی کہ اس کلام کے پیش کرنے میں تمہیں بہت سی مشکلات پیش آئیں گی مگر تو اس رب کا نام لے کر پڑھ جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اس میں یہ اشارہ کیا کہ یہ کلام صرف بنی اسرائیل کے لئے یا اہل ہنود کیلئے نہیں یہ الانسان کے لئے ہے اور جب ایک قوم کو مخاطب کرنے والوں کو دکھ اور تکالیف اُٹھانی پڑیں تو تم جو ساری دنیا کو مخاطب کر رہے ہو تمہیں کس قدر مشکلات پیش آئیں گی۔مگر کسی بات سے ڈرنا نہیں یہ کلام تیرے رب کی طرف سے آیا ہے اور باوجود اس کے کہ ساری دنیا اس کی مخاطب ہے اور اس وجہ سے ساری دنیا