فضائل القرآن — Page 413
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ میں آیا تو ہد ہد ہو گیا۔413 در حقیقت تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عدد کئی ارومی بادشاہوں کا نام تھا اور اس کے معنی بڑے شور کے ہوتے ہیں۔عربی زبان میں بھی ھڈ کے ایک معنی الصّوْتُ الْغَلِيظ ۵۵ یعنی بڑی بلند آواز کے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اونچی آواز والے لڑکے کا نام نبرد یا ہد ہد رکھ دیتے تھے۔پھر یہ نام تیسرے ادو می بادشاہ کا بھی تھا جس نے مدین کو شکست دی تھی اور آخری بادشاہ کا بھی یہی نام تھا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایک لڑکے کا نام بھی ہد ہد تھا۔بائیبل کی کتاب نمبر اسلاطین باب ۱۱ آیت ۱۴ میں بھی ادوم کے خاندان کے ایک شہزادہ کا ذکر آتا ہے جس کا نام ہر د تھا اور جو یو آب کے قتل عام سے ڈر کر مصر بھاگ گیا تھا۔جیوش انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ پرانے عہد نامہ میں جب یہ لفظ اکیلا آئے اور اس کے ساتھ کوئی صفاتی فعل یا لفظ نہ ہو تو اس کے معنی ارومی خاندان کے آدمی کے ہوتے ہیں۔غرض یہ ہد ہد عبرانی زبان کا لفظ ھد د ہے جو عربی میں آکر ہد ہد ہو گیا۔چونکہ مفسرین کو یہ شوق ہوتا ہے کہ اپنی تفسیر کو دلچسپ بنا ئیں اس لئے وہ بعض دفعہ بیہودہ قصے بھی اپنی تفسیروں میں درج کر دیتے ہیں۔چنانچہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ضب عربی میں گوہ کو کہتے ہیں مگر ضب عرب کے ایک قبیلے کے سردار کا بھی نام تھا اور یہ ایسا ہی نام ہے جیسے ہندوؤں میں طوطا رام نام ہوتا ہے۔وہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے آپ کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا۔اب وعظ کی کتابوں میں اس بات کو ایک قصہ کا رنگ دیتے ہوئے یوں بیان کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جارہے تھے کہ رستہ میں ایک سوراخ سے گوہ نکلی اور اُس نے قصیدہ پڑھنا شروع کر دیا۔اب جن لوگوں نے یہ بنالیا کہ ایک گوہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں قصیدہ پڑھا تھا اُن کے لئے ہد ہد کا پرندہ بنا لینا کونسا مشکل کام تھا۔بہر حال قرآن کریم میں کئی مقامات پر مجاز اور استعارہ بھی استعمال کیا گیا ہے مگر چونکہ قرآن کریم دائمی شریعت ہے اس لئے اُس نے ساتھ ہی محکم آیات بھی رکھ دی ہیں جو کوئی دوسرے معنی کرنے ہی نہیں دیتیں۔جب استعارے کو استعارے کی حد تک محدود رکھا جائے گا تو اس کے معنی ٹھیک رہیں گے مگر جب استعارہ کو حقیقت قرار دے دیا جائے گا تو دو آیتیں آپس میں ٹکرا جائیں