فضائل القرآن — Page 412
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 412 دیا گیا اور بتادیا گیا کہ عمل صالح مومن کو اڑا کر اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ جب کوئی مومن مرتا ہے تو اس کی روح کو فرشتے آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دروازے کھول دو ایک مومن کی روح آتی ہے مگر جب کا فر مرتا ہے تو اُس کی روح اُٹھائی نہیں جاتی بلکہ نیچے پھینکی جاتی ہے۔غرص نظیر سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی روحیں ہیں جو دین کے لئے ہر قسم کی بلندیوں پر چڑھنے کے لئے تیار رہتی ہیں وہ مشکلات کی پرواہ نہیں کرتیں اور نہ مصائب سے گھبراتی ہیں بلکہ ہر قسم کی قربانیوں کے لئے آمادہ اور تیار رہتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ ایک صحابی نے جنگ بدر کے موقع پر کہا یا رسول اللہ ! آپ حکم دیجئے ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں اور ذرا بھی ہمارے اندر ہچکچاہٹ پیدا نہیں ہوگی کہ حضور نے یہ حکم کیوں دیا ؟ گویا مومن کو پرندہ کہ کر اللہ تعالیٰ نے اُن قابلیتوں کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں پائی جاتی ہے اور بتایا ہے کہ وہ سفلی زندگی کی بجائے علوی زندگی اختیار کرتے اور نیچے جھکنے کی بجائے اوپر کی طرف پرواز کرتے ہیں۔بدید کے متعلق تاریخی تحقیق اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں بہد ہد نام کیوں رکھا گیا ہے؟ اور گو اس کا عقلی جواب میں قرآن کریم سے ہی دے چکا ہوں مگر اب بتا تا ہوں کہ ہد ہد سے مراد کیا ہے؟ ہد ہد کا پتہ لینے کے لئے جب ہم بنی اسرائیل کی کتابیں دیکھتے ہیں اور اس امر پر غور کرتے ہیں کہ کیا ان میں کسی ہدہد کا ذکر آتا ہے یا نہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں یہودیوں میں کثرت سے ہر دنام ہوا کرتا تھا جو عبرانی سے عربی میں بدل کر ہد ہد ہو گیا۔جیسے عبرانی میں ابراہام کہا جاتا ہے مگر جب یہ لفظ عربی میں آیا تو ابراہیم بن گیا۔اسی طرح عبرانی میں یسوع کہا جاتا ہے مگر عربی میں عیسی کہتے ہیں۔اسی طرح عبرانی میں موٹے کہا جاتا ہے مگر عربی میں یہی نام موسی ہو گیا۔اب بھی کسی اہل عرب کو لکھنو کہنا پڑے تو وہ لکھنو نہیں بلکہ ”لکھنا ہو" کہے گا۔اسی طرح عبرانی میں بدر کہا جاتا تھا مگر چونکہ قرآن عربی میں ہے اس لئے جب یہ نام اس