فضائل القرآن — Page 389
فصائل القرآن نمبر۔۔۔389 ایمان لائے وہاں ان سے جن الانس ہی مراد ہیں۔حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا ہے۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ لِقَوْمٍ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ باتخاذكُمُ الْعِجل " یعنی اے میری قوم! تم نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا کہ ایک بچھڑے کو پوجا۔اب یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ بنی اسرائیل تھے جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی ، جن نہیں تھے حالانکہ قرآن سے ثابت ہے کہ جن آپ پر ایمان لائے تھے۔پس صاف ثابت ہوا کہ ان جنوں سے آدمی جن ہی مراد تھے نہ کہ وہ جن جن کا نقشہ عام لوگوں کے دماغوں میں ہے۔اسی طرح ایک حدیث میں جس کے راوی حضرت جابر بن عبداللہ ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے پانچ ایسی خصوصیتیں دی گئی ہیں جو پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ کان النَّبِيُّ يُبْعَثُ إلى قَوْمِهِ خَاصَّةً کہ پہلے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تها و بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَةُ ٢ مگر میں روئے زمین کے تمام آدمیوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قطعی طور پر بیان فرماتے ہیں کہ انبیائے سابقین میں ایک نبی بھی ایسا نہیں جو اپنی قوم کے سوا کسی اور قوم کی طرف مبعوث ہوا ہو لیکن مسلمان یہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان جنوں اور طیور کی طرف بھیجے گئے تھے۔اگر واقعہ میں حضرت سلیمان جنوں اور طیور کی طرف مبعوث ہوئے تھے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نَعُوذُ باللہ درجہ میں بڑھ گئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو صرف انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔۲۵ جنوں کے انسان ہونے پر بعض اور دلائل پھر اگر یہ جن غیر از انسان ہیں تو وہ مخاطب کیونکر ہو گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ، يَمَعْشَرَ الْجِنَّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُهُ مِنَ الْإِنْسِ " فرماتا ہے جب قیامت کے دن سب لوگ جمع ہو نگے تو ہم جنوں سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ اے جنوں کے گروہ! تم نے انسانوں میں سے اکثر لوگوں کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ہم تو جنوں کو تلاش کرتے کرتے تھک گئے مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ جنوں نے اکثروں کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے حالانکہ ہم تلاش کرتے ہیں تو ملتے نہیں۔لوگ وظیفے پڑھتے ہیں، چلہ کشیاں کرتے ہیں اور جب ان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے